Mohammad Deen Taseer

محمد دین تاثیر

ترقی پسند تحریک کے سرخیل،رسالہ "کارواں" کے مدیر،انگلینڈ سے انگریزی میں ڈاکٹریٹ کرنے والے برصغیر کے پہلے ادیب

Urdu poet,critic and one of the pioneers of the progressive movement in Urdu literature. Close relation with Faiz Ahmad Faiz as their wives were sisters.

محمد دین تاثیر کی نظم

    غریبوں کی صدا

    غریبوں کی فاقہ کشوں کی صدا ہے مرے جا رہے ہیں امیروں کے عیشوں کا انبار سر پر لدے ہیں زمانے کے افکار سر پر زمیندار کاندھے پہ سرکار سر پر مرے جا رہے ہیں شرابوں کے رسیا امیروں کا کیا ہے ہنسے جا رہے ہیں غریبوں کی محنت کی دولت چرا کر غریبوں کی راحت کی دنیا مٹا کر محل اپنے غارت گری سے سجا ...

    مزید پڑھیے

    دوراہا

    ریل گاڑی یہ گھمسان الٰہی توبہ نہ مروت نہ تکلف نہ تبسم نہ ادا یوں ہی اک غیر شعوری سی خشونت کا خروش بے ارادہ ہے تو کیا غیر شعوری ہے تو کیا یہ نئے دور کے احساس غلامی کا ظہور انتقامانہ تحکم کی نمود اس میں اک اظہار بغاوت بھی تو ہے یوں ہی یوں ہی سہی اک شائبہ داد شجاعت بھی تو ہے چاک تو ...

    مزید پڑھیے

    لندن کی ایک شام

    یہ رہ گزر یہ زن و مرد کا ہجوم یہ شام فراز کوہ سے جس طرح ندیاں سر پر لیے ہوئے شفق آلود برف کے پیکر سفید جھیل کی آغوش میں سمٹ جائیں یہ تند گام سبک سیر کارواں حیات ''نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم'' کدھر سے آئے کدھر جا رہے ہیں کیا معلوم سنہری شام یہ 'ای روس' جھلملاتا ہوا بندھا ہوا ہے ...

    مزید پڑھیے

    سائے

    ایسی راتیں بھی کئی گزری ہیں جب تری یاد نہیں آتی ہے درد سینے میں مچلتا ہے مگر لب پہ فریاد نہیں آتی ہے ہر گنا سامنے آ جاتا ہے جیسے تاریک چٹانوں کی قطار نہ کوئی حیلۂ تیشہ کاری نہ مداوائے فرار ایسی راتیں بھی ہیں گزری مجھ پر جب تری راہ گزر میں سائے ہر جگہ چار طرف تھے چھائے تو نہ تھی ...

    مزید پڑھیے

    رس بھرے ہونٹ

    رس بھرے ہونٹ پھول سے ہلکے جیسے بلور کی صراحی میں بادۂ آتشیں نفس چھلکے جیسے نرگس کی گول آنکھوں سے ایک شبنم کا ارغواں قطرہ شفق صبح سے درخشندہ دھیرے دھیرے سنبھل سنبھل ڈھلکے رس بھرے ہونٹ یوں لرزتے ہیں.....! یوں لرزتے ہیں جس طرح کوئی رات دن کا تھکا ہوا راہی پاؤں چھلنی نگاہ متزلزل وقت ...

    مزید پڑھیے

    راہرو

    آج میں دور بہت دور نکل آیا ہوں بے طلب تگ و دو دل میں کاوش نہ تلاش نہ کوئی خواہش مخفی نہ تمنائے معاش ہوس خام نہ سودائے تمام یوں ہی چلتا ہوا چلتا ہوا آ پہنچا ہوں پے بہ پے گام بہ گام کس قدر دور نکل آیا ہوں اس سے پہلے بھی چلا ہوں میں نئی راہوں پر شاہراہوں سے پرے خار زاروں میں گھسٹتی ہوئی ...

    مزید پڑھیے