Mohammad Deen Taseer

محمد دین تاثیر

ترقی پسند تحریک کے سرخیل،رسالہ "کارواں" کے مدیر،انگلینڈ سے انگریزی میں ڈاکٹریٹ کرنے والے برصغیر کے پہلے ادیب

Urdu poet,critic and one of the pioneers of the progressive movement in Urdu literature. Close relation with Faiz Ahmad Faiz as their wives were sisters.

محمد دین تاثیر کی غزل

    لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں

    لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں خاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیں تیرے بغیر تلخی کام و دہن حرام درد جگر ہے لذت درد جگر نہیں سجدوں سے نامراد ہے جلووں سے ناامید وہ رہ گزر کہ اب جو تری رہ گزر نہیں تم کیا گئے کہ سارا زمانہ چلا گیا وہ رات دن نہیں ہیں وہ شام و سحر نہیں ہر ہر روش ...

    مزید پڑھیے

    حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں

    حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں کچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں مزاج ایک نظر ایک دل بھی ایک سہی معاملات من و تو نکل ہی آتے ہیں ہزار ہم سخنی ہو ہزار ہم نظری مقام جنبش ابرو نکل ہی آتے ہیں حنائے ناخن پا ہو کہ حلقۂ سر زلف چھپاؤ بھی تو یہ جادو نکل ہی آتے ہیں جناب شیخ وضو کے لیے سہی ...

    مزید پڑھیے

    داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں

    داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں گل کھلائے ہوئے تمہارے ہیں ربط ہے حسن و عشق میں باہم ایک دریا کے دو کنارے ہیں کوئی جدت نہیں حسینوں میں سب نے نقشے ترے اتارے ہیں تیری باتیں ہیں کس قدر شیریں تیرے لب کیسے پیارے پیارے ہیں جس طرح ہم نے راتیں کاٹی ہیں اس طرح ہم نے دن گزارے ہیں

    مزید پڑھیے

    شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریں

    شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریں کچھ تو ہیں پہلے ہی برہم اور کیا برہم کریں وہ توجہ دیں تو ہو آراستہ بزم حیات وہ نگاہیں پھیر لیں تو انجمن برہم کریں یوں بدل لیں طالع خورشید سے بخت سیاہ آسماں کی طرح سر کو تیرے در پر خم کریں آئنہ دار نمود حسن روز افزوں جو ہو ہم کہاں سے روز پیدا ...

    مزید پڑھیے

    وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ

    وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ نہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہ تری نیم کش نگاہیں ترا زیر لب تبسم یونہی اک ادائے مستی یونہی اک فریب سادہ وہ کچھ اس طرح سے آئے مجھے اس طرح سے دیکھا مری آرزو سے کم تر مری تاب سے زیادہ یہ دلیل خوش دلی ہے مرے واسطے نہیں ہے وہ دہن کہ ہے شگفتہ وہ ...

    مزید پڑھیے

    حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچے

    حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچے آنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچے دل نے آنکھوں سے کہی آنکھوں نے دل سی کہہ دی بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے عشق پہلے ہی قدم پر ہے یقیں سے واصل انتہا عقل کی یہ ہے کہ گماں تک پہنچے کعبہ و دیر میں تو لوگ ہیں آتے جاتے وہ نہ لوٹے جو در پیر ...

    مزید پڑھیے

    اے حق سرشت آئنہ حق نما ہیں ہم

    اے حق سرشت آئنہ حق نما ہیں ہم اے ابتدائے کار تری انتہا ہیں ہم تم کیا ہو عشوہ کاریٔ تخیئل اور کیا ہم کیا ہیں باز گشتہ تمہاری صدا ہیں ہم ذہن ازل میں ایک تصور کا اہتزاد مدھم سی ایک نغمۂ کن کی نوا ہیں ہم کچھ بھی نہیں جو تو نہ ہو تو ہے تو کیا نہیں سب کچھ بھی ہم ہیں اور جو سوچیں تو کیا ...

    مزید پڑھیے