لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں
لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں خاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیں تیرے بغیر تلخی کام و دہن حرام درد جگر ہے لذت درد جگر نہیں سجدوں سے نامراد ہے جلووں سے ناامید وہ رہ گزر کہ اب جو تری رہ گزر نہیں تم کیا گئے کہ سارا زمانہ چلا گیا وہ رات دن نہیں ہیں وہ شام و سحر نہیں ہر ہر روش ...