Mohammad Deen Taseer

محمد دین تاثیر

ترقی پسند تحریک کے سرخیل،رسالہ "کارواں" کے مدیر،انگلینڈ سے انگریزی میں ڈاکٹریٹ کرنے والے برصغیر کے پہلے ادیب

Urdu poet,critic and one of the pioneers of the progressive movement in Urdu literature. Close relation with Faiz Ahmad Faiz as their wives were sisters.

محمد دین تاثیر کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں

    لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں خاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیں تیرے بغیر تلخی کام و دہن حرام درد جگر ہے لذت درد جگر نہیں سجدوں سے نامراد ہے جلووں سے ناامید وہ رہ گزر کہ اب جو تری رہ گزر نہیں تم کیا گئے کہ سارا زمانہ چلا گیا وہ رات دن نہیں ہیں وہ شام و سحر نہیں ہر ہر روش ...

    مزید پڑھیے

    حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں

    حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں کچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں مزاج ایک نظر ایک دل بھی ایک سہی معاملات من و تو نکل ہی آتے ہیں ہزار ہم سخنی ہو ہزار ہم نظری مقام جنبش ابرو نکل ہی آتے ہیں حنائے ناخن پا ہو کہ حلقۂ سر زلف چھپاؤ بھی تو یہ جادو نکل ہی آتے ہیں جناب شیخ وضو کے لیے سہی ...

    مزید پڑھیے

    داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں

    داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں گل کھلائے ہوئے تمہارے ہیں ربط ہے حسن و عشق میں باہم ایک دریا کے دو کنارے ہیں کوئی جدت نہیں حسینوں میں سب نے نقشے ترے اتارے ہیں تیری باتیں ہیں کس قدر شیریں تیرے لب کیسے پیارے پیارے ہیں جس طرح ہم نے راتیں کاٹی ہیں اس طرح ہم نے دن گزارے ہیں

    مزید پڑھیے

    شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریں

    شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریں کچھ تو ہیں پہلے ہی برہم اور کیا برہم کریں وہ توجہ دیں تو ہو آراستہ بزم حیات وہ نگاہیں پھیر لیں تو انجمن برہم کریں یوں بدل لیں طالع خورشید سے بخت سیاہ آسماں کی طرح سر کو تیرے در پر خم کریں آئنہ دار نمود حسن روز افزوں جو ہو ہم کہاں سے روز پیدا ...

    مزید پڑھیے

    وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ

    وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ نہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہ تری نیم کش نگاہیں ترا زیر لب تبسم یونہی اک ادائے مستی یونہی اک فریب سادہ وہ کچھ اس طرح سے آئے مجھے اس طرح سے دیکھا مری آرزو سے کم تر مری تاب سے زیادہ یہ دلیل خوش دلی ہے مرے واسطے نہیں ہے وہ دہن کہ ہے شگفتہ وہ ...

    مزید پڑھیے

تمام

6 نظم (Nazm)

    غریبوں کی صدا

    غریبوں کی فاقہ کشوں کی صدا ہے مرے جا رہے ہیں امیروں کے عیشوں کا انبار سر پر لدے ہیں زمانے کے افکار سر پر زمیندار کاندھے پہ سرکار سر پر مرے جا رہے ہیں شرابوں کے رسیا امیروں کا کیا ہے ہنسے جا رہے ہیں غریبوں کی محنت کی دولت چرا کر غریبوں کی راحت کی دنیا مٹا کر محل اپنے غارت گری سے سجا ...

    مزید پڑھیے

    دوراہا

    ریل گاڑی یہ گھمسان الٰہی توبہ نہ مروت نہ تکلف نہ تبسم نہ ادا یوں ہی اک غیر شعوری سی خشونت کا خروش بے ارادہ ہے تو کیا غیر شعوری ہے تو کیا یہ نئے دور کے احساس غلامی کا ظہور انتقامانہ تحکم کی نمود اس میں اک اظہار بغاوت بھی تو ہے یوں ہی یوں ہی سہی اک شائبہ داد شجاعت بھی تو ہے چاک تو ...

    مزید پڑھیے

    لندن کی ایک شام

    یہ رہ گزر یہ زن و مرد کا ہجوم یہ شام فراز کوہ سے جس طرح ندیاں سر پر لیے ہوئے شفق آلود برف کے پیکر سفید جھیل کی آغوش میں سمٹ جائیں یہ تند گام سبک سیر کارواں حیات ''نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم'' کدھر سے آئے کدھر جا رہے ہیں کیا معلوم سنہری شام یہ 'ای روس' جھلملاتا ہوا بندھا ہوا ہے ...

    مزید پڑھیے

    سائے

    ایسی راتیں بھی کئی گزری ہیں جب تری یاد نہیں آتی ہے درد سینے میں مچلتا ہے مگر لب پہ فریاد نہیں آتی ہے ہر گنا سامنے آ جاتا ہے جیسے تاریک چٹانوں کی قطار نہ کوئی حیلۂ تیشہ کاری نہ مداوائے فرار ایسی راتیں بھی ہیں گزری مجھ پر جب تری راہ گزر میں سائے ہر جگہ چار طرف تھے چھائے تو نہ تھی ...

    مزید پڑھیے

    رس بھرے ہونٹ

    رس بھرے ہونٹ پھول سے ہلکے جیسے بلور کی صراحی میں بادۂ آتشیں نفس چھلکے جیسے نرگس کی گول آنکھوں سے ایک شبنم کا ارغواں قطرہ شفق صبح سے درخشندہ دھیرے دھیرے سنبھل سنبھل ڈھلکے رس بھرے ہونٹ یوں لرزتے ہیں.....! یوں لرزتے ہیں جس طرح کوئی رات دن کا تھکا ہوا راہی پاؤں چھلنی نگاہ متزلزل وقت ...

    مزید پڑھیے

تمام