Mohammad Amaan Nisar

محمد امان نثار

محمد امان نثار کی غزل

    کچھ مجھے اب زندگی اپنی نظر آتی نہیں

    کچھ مجھے اب زندگی اپنی نظر آتی نہیں دوستو مدت ہوئی اس کی خبر آتی نہیں روبرو ہوتے ہی اس کے عقل ہو جاتی ہے گم کچھ کا کچھ بکنے لگوں ہوں بات کر آتی نہیں اس بت گمراہ کو ہر چند سمجھاتا ہوں میں کیا کروں اس کی طبیعت راہ پر آتی نہیں دل پھنسا ہے اس کے بس میں دیکھیے کیا ہو نثارؔ ناگنی جس ...

    مزید پڑھیے

    کینہ جو ترے دل میں بھرا ہے سو کدھر جائے

    کینہ جو ترے دل میں بھرا ہے سو کدھر جائے ممکن ہے کہیں سنگ کے پہلو سے شرر جائے تڑپوں ہوں تماشے کو مرے ہٹ کے کھڑا ہو دامن کو سنبھال اپنے مرے خوں سے نہ بھر جائے کہتا ہے کوئی برق کوئی شعلۂ آتش اک دم تو ٹھہر جائے تو اک بات ٹھہر جائے مت منہ سے نثارؔ اپنے کو اے جان برا کہہ ہے صاحب غیرت ...

    مزید پڑھیے

    اشک ہوئے ہیں ابتر ایسے ہم کو بہائے دیتے ہیں

    اشک ہوئے ہیں ابتر ایسے ہم کو بہائے دیتے ہیں تختی کیسی حیف یہ لڑکے دھو کے مٹائے دیتے ہیں ایک پھنسی ہی زلفوں میں اک چاہ ذقن ہیں ڈوبی ہے دیدہ و دل میں پھوٹ پڑی ہے گھر کو ڈبائے دیتے ہیں خون کریں گے تم پر اپنا یاد رکھو ان باتوں کو آؤ نہ ملنا خوب نہیں ہے تم کو جتائے دیتے ہیں خوب جو ...

    مزید پڑھیے

    دیکھے کہیں مجھ کو تو لب بام سے ہٹ جائے

    دیکھے کہیں مجھ کو تو لب بام سے ہٹ جائے اس وضع سے اس کی مرا دل کیونکہ نہ پھٹ جائے آ جائے کہیں باد کا جھونکا تو مزا ہو ظالم ترے مکھڑے سے دوپٹہ جو الٹ جائے اے نالۂ جانکاہ بہت ہو چکی بس کر ڈرتا ہوں کہیں نیند کسی کی نہ اچٹ جائے دیکھے کہیں رستے میں کھڑا مجھ کو تو ضد سے آتا ہو ادھر کو تو ...

    مزید پڑھیے

    چوری چوری آنکھ لڑتے میں دکھا دوں تو سہی

    چوری چوری آنکھ لڑتے میں دکھا دوں تو سہی کھانس کر کھنکھار کر اس کو جتا دوں تو سہی مل تو دیکھے غیر سے کس طرح ملتا ہے وہ شوخ وہ جو نقشہ اس نے باندھا ہے مٹا دوں تو سہی جل بجھے سینہ میں دل لیکن نہ نکلے منہ سے آہ در مقفل کر کے میں گھر کو جلا دوں تو سہی عشق کہتا ہے کہ سر رشتہ دل کا میرے ...

    مزید پڑھیے

    کس کافر بے مہر سے دل اپنا لگا ہے

    کس کافر بے مہر سے دل اپنا لگا ہے جس میں کہ محبت نہ مروت نہ وفا ہے بے کار کبھو رات کو بھی میں نہیں رہتا جوں شمع مجھے تا بہ سحر مشق فنا ہے کیا وضع بیاں کیجئے اس شوخ کی اپنے لڑنے کو قیامت ہے جھگڑنے کو بلا ہے کیا قہر ہے ہم دیکھ کے خوش ہوتے ہیں جس کو سو اس کی یہ صورت ہے کہ صورت سے خفا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2