Mohammad Amaan Nisar

محمد امان نثار

محمد امان نثار کی غزل

    ہے جو سینہ میں جگہ لہکے ہے انگارا سا

    ہے جو سینہ میں جگہ لہکے ہے انگارا سا دل جو پہلو میں ہے بیتاب ہے وہ پارا سا آنکھ لگتی ہے کوئی پل تو ہمیں ہاں اس کا عالم خواب میں ہو جائے ہے نظارا سا دل ہے اس سوزن مژگاں سے مشبک میرا چھوٹنے کیوں لگے خون کا فوارا سا دل کہیں دیدہ کہیں جی ہے کہیں جان کہیں گردش چرخ میں ہر ایک ہے آوارا ...

    مزید پڑھیے

    کیا جامۂ پھلکاری اس گل کی پھبن کا تھا

    کیا جامۂ پھلکاری اس گل کی پھبن کا تھا جو تختۂ‌ دامن تھا تختہ وہ چمن کا تھا ہم آگو ہی سمجھے تھے تم گھر کو سدھارو گے جوں صبح گجر باجا ماتھا وہیں ٹھنکا تھا مینا میں نہ ہو جلوہ وہ بادۂ گلگوں کا جامہ میں جو کچھ یارو رنگ اس کے بدن کا تھا نرگس کو کیا ایسا بیمار ان آنکھوں نے ڈھلکا ہی ...

    مزید پڑھیے

    کرو سامان جھولے کا کہ اب برسات آئی ہے

    کرو سامان جھولے کا کہ اب برسات آئی ہے گھٹا امڈی ہے بجلی نے چمک اپنی دکھائی ہے اگر جھولے تو میرے دل کے جھولے میں تو اے ظالم رگ جاں سے ترے جھولے کو میں رسی بنائی ہے یہاں ابر سیہ میں آج تیرے سرخ جوڑے نے مجھے شام و شفق دست و گریباں کر دکھائی ہے ادھر ہے کرمک شب تاب ادھر جگنو گلے کا ...

    مزید پڑھیے

    میرے پروانہ کو اب مژدۂ مایوسی ہے

    میرے پروانہ کو اب مژدۂ مایوسی ہے کیونکہ وہ پردہ نشیں شعلۂ فانوسی ہے ساقیا دست نگاریں سے ترے مینا میں ہم جو کرتے ہیں نظر جلوۂ طاؤسی ہے جام لبریز چہکتا ہے ید بیضا سا یار کے ہاتھ میں کیا معجزۂ موسی ہے مرتی اس گل پہ ہے بکتا ہے جو کوڑی کوڑی تجھ پہ مرتی نہیں بلبل بھی کچھ الو سی ...

    مزید پڑھیے

    کٹتی ہے کوئی دم یہیں اوقات مزے کی

    کٹتی ہے کوئی دم یہیں اوقات مزے کی دنیا میں عجب جا ہے خرابات مزے کی کہتا ہے مبارک کوئی کہتا ہے سلامت ہے روٹھ کے ملنا بھی ملاقات مزے کی آگے تو یہ چپ چاپ کا مذکور نہیں تھا ہوتی تھی کئی ڈھب سے عنایات مزے کی بومہ ہے نہ گالی ہے نہ چشمک زدنی ہے کیا ہے جو نہیں آج اشارات مزے کی ہونے دے ...

    مزید پڑھیے

    دوستی چاہ دلی مہر و محبت گزری

    دوستی چاہ دلی مہر و محبت گزری سیدھے منہ بات بھی کرتا نہیں رت گزری ایک مصرعہ جو پڑھا وصف قد یار میں ہم سرو کے سر پہ گلستاں میں قیامت گزری ہم نشیں پوچھ نہ کچھ چپ ہی بھلی ہے اس سے شب فرقت میں جو کچھ ہم پہ صعوبت گزری صبح کو نام کسی نے جو لیا اس کا یہاں دل مشتاق پہ بے طرح کی حالت ...

    مزید پڑھیے

    سو طرح کا چھوڑ کر آرام تیرے واسطے

    سو طرح کا چھوڑ کر آرام تیرے واسطے کو بہ کو پھرتا ہوں اے خود کام تیرے واسطے عشق نے تیرے مجھے اس رنگ کو پہنچا دیا منہ سے ہر اک کے سنا دشنام تیرے واسطے مہر کے مانند کھاتا چرخ پھرتا ہوں خراب صبح سے اے مہ جبیں تا شام تیرے واسطے غنچہ و گل لے رہے ہیں ساقیا مجلس ہیں چل شیشے میرے واسطے ...

    مزید پڑھیے

    بار خاطر باغباں کا نے دل آزار چمن

    بار خاطر باغباں کا نے دل آزار چمن سب سے رہتا ہوں الگ جوں خار دیوار چمن نے دھواں دل سے اٹھے یارو نہ پروانہ جلے آتش خاموش ہوں مانند گلزار چمن صرف آرائش کو ہوں گلہائے کاغذ کی مثال بو کرے مجھ کو نہ کوئی اور نہ درکار چمن بلبل رشتہ بپا لٹکے ہے شاخ گل سے آج سخت الجھیڑے میں ہے یارب گنہ ...

    مزید پڑھیے

    ہم دل و جاں سے خریدار ہیں کن کے ان کے

    ہم دل و جاں سے خریدار ہیں کن کے ان کے باعث گرمئی بازار ہیں کن کے ان کے یہ خدا جانے کسی کو ہے خبر یا کہ نہیں ہم بھی اک عاشق غم خوار ہیں کن کے ان کے مقتل عشق میں ہم روز ازل سے یارو بسمل غمزۂ خوں خوار ہیں کن کے ان کے تھا جنہیں حسن پرستی سے ہمیشہ انکار وہ بھی اب طالب دیدار ہیں کن کے ان ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو ہم سے دو چار بیٹھے ہیں

    یہ جو ہم سے دو چار بیٹھے ہیں فتنۂ روزگار بیٹھے ہیں تشنۂ خوں یہی ہمارے ہیں یہ جو باندھ کٹار بیٹھے ہیں تیرے کوچے میں جیسے نقش قدم کب سے ہم خاکسار بیٹھے ہیں غیر کے سر پہ تیغ مت کھینچو ہم تمہارے نثارؔ بیٹھے ہیں

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2