Mohammad Amaan Nisar

محمد امان نثار

محمد امان نثار کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    ہے جو سینہ میں جگہ لہکے ہے انگارا سا

    ہے جو سینہ میں جگہ لہکے ہے انگارا سا دل جو پہلو میں ہے بیتاب ہے وہ پارا سا آنکھ لگتی ہے کوئی پل تو ہمیں ہاں اس کا عالم خواب میں ہو جائے ہے نظارا سا دل ہے اس سوزن مژگاں سے مشبک میرا چھوٹنے کیوں لگے خون کا فوارا سا دل کہیں دیدہ کہیں جی ہے کہیں جان کہیں گردش چرخ میں ہر ایک ہے آوارا ...

    مزید پڑھیے

    کیا جامۂ پھلکاری اس گل کی پھبن کا تھا

    کیا جامۂ پھلکاری اس گل کی پھبن کا تھا جو تختۂ‌ دامن تھا تختہ وہ چمن کا تھا ہم آگو ہی سمجھے تھے تم گھر کو سدھارو گے جوں صبح گجر باجا ماتھا وہیں ٹھنکا تھا مینا میں نہ ہو جلوہ وہ بادۂ گلگوں کا جامہ میں جو کچھ یارو رنگ اس کے بدن کا تھا نرگس کو کیا ایسا بیمار ان آنکھوں نے ڈھلکا ہی ...

    مزید پڑھیے

    کرو سامان جھولے کا کہ اب برسات آئی ہے

    کرو سامان جھولے کا کہ اب برسات آئی ہے گھٹا امڈی ہے بجلی نے چمک اپنی دکھائی ہے اگر جھولے تو میرے دل کے جھولے میں تو اے ظالم رگ جاں سے ترے جھولے کو میں رسی بنائی ہے یہاں ابر سیہ میں آج تیرے سرخ جوڑے نے مجھے شام و شفق دست و گریباں کر دکھائی ہے ادھر ہے کرمک شب تاب ادھر جگنو گلے کا ...

    مزید پڑھیے

    میرے پروانہ کو اب مژدۂ مایوسی ہے

    میرے پروانہ کو اب مژدۂ مایوسی ہے کیونکہ وہ پردہ نشیں شعلۂ فانوسی ہے ساقیا دست نگاریں سے ترے مینا میں ہم جو کرتے ہیں نظر جلوۂ طاؤسی ہے جام لبریز چہکتا ہے ید بیضا سا یار کے ہاتھ میں کیا معجزۂ موسی ہے مرتی اس گل پہ ہے بکتا ہے جو کوڑی کوڑی تجھ پہ مرتی نہیں بلبل بھی کچھ الو سی ...

    مزید پڑھیے

    کٹتی ہے کوئی دم یہیں اوقات مزے کی

    کٹتی ہے کوئی دم یہیں اوقات مزے کی دنیا میں عجب جا ہے خرابات مزے کی کہتا ہے مبارک کوئی کہتا ہے سلامت ہے روٹھ کے ملنا بھی ملاقات مزے کی آگے تو یہ چپ چاپ کا مذکور نہیں تھا ہوتی تھی کئی ڈھب سے عنایات مزے کی بومہ ہے نہ گالی ہے نہ چشمک زدنی ہے کیا ہے جو نہیں آج اشارات مزے کی ہونے دے ...

    مزید پڑھیے

تمام