Mohammad Ali Manzar

محمد علی منظر

محمد علی منظر کی غزل

    سکوت شام سمندر پرندگاں سورج

    سکوت شام سمندر پرندگاں سورج یہ لمحہ لمحہ بدلتا ہوا جہاں سورج فصیل شہر شکستہ کے مٹ گئے آثار گزشتہ عہد کی کہتا ہے داستاں سورج سمندروں کے سفر پر ہوئے روانہ جب ہمارے ساتھ چلا مثل بادباں سورج وہ موجیں مارتا دریا یا ریگ صحرا ہے عجیب ڈھنگ سے لیتا ہے امتحاں سورج زمیں پہ رنگ ہیں جتنے ...

    مزید پڑھیے

    خراب و خستہ سہی سائباں بنایا ہے

    خراب و خستہ سہی سائباں بنایا ہے مضاف شہر میں ہم نے مکاں بنایا ہے کبھی رہا ہی نہیں موسموں سے پیوستہ نئے مزاج کا اک گلستاں بنایا ہے کسی کے واسطے فردوس ہے یہ سیارہ ہمارے واسطے آزار جاں بنایا ہے حدود وقت میں محدود کر کے انساں کو خود اپنے واسطے کیوں لا مکاں بنایا ہے گر اختلاف تھا ...

    مزید پڑھیے

    مثالی دنیا میں جی رہا ہوں

    مثالی دنیا میں جی رہا ہوں خیالی دنیا میں جی رہا ہوں تمام چہروں پہ تیرگی ہے میں کالی دنیا میں جی رہا ہوں زبان شعلے اگل رہی ہے جلالی دنیا میں جی رہا ہوں تمام منظر بدل چکے ہیں میں خالی دنیا میں جی رہا ہوں میں اپنے خوابوں کے گل سجائے نرالی دنیا میں جی رہا ہوں ہر ایک کاسہ بدست ...

    مزید پڑھیے

    شہر کی اس بھیڑ میں ہوں بے نشاں ہوتے ہوئے

    شہر کی اس بھیڑ میں ہوں بے نشاں ہوتے ہوئے دیکھتا رہتا ہوں خود کو رائیگاں ہوتے ہوئے میری اس تنہائی کی اب کوئی تو تاویل ہو کیوں اکیلا چل رہا ہوں کارواں ہوتے ہوئے میں تمہارے گھر میں اک دن روشنی لے آؤں گا اک ستارے نے کہا یہ مہرباں ہوتے ہوئے ہر طرف مرجھائی کلیاں ہر طرف پتوں کا ...

    مزید پڑھیے