شہر کی اس بھیڑ میں ہوں بے نشاں ہوتے ہوئے
شہر کی اس بھیڑ میں ہوں بے نشاں ہوتے ہوئے
دیکھتا رہتا ہوں خود کو رائیگاں ہوتے ہوئے
میری اس تنہائی کی اب کوئی تو تاویل ہو
کیوں اکیلا چل رہا ہوں کارواں ہوتے ہوئے
میں تمہارے گھر میں اک دن روشنی لے آؤں گا
اک ستارے نے کہا یہ مہرباں ہوتے ہوئے
ہر طرف مرجھائی کلیاں ہر طرف پتوں کا شور
باغ کیوں اجڑا ہوا ہے باغباں ہوتے ہوئے
کب بھلا فرصت ملے گی فکر دنیا سے مجھے
گیت کب لکھوں گا منظرؔ شادماں ہوتے ہوئے