Mohammad Ali Jauhar

محمد علی جوہرؔ

ہندوستان کی تحریک آزادی کے اہم رہنما

One of the prominent leaders of indian freedom movement.

محمد علی جوہرؔ کی غزل

    تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں

    تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں اب ہونے لگیں ان سے خلوت میں ملاقاتیں ہر آن تسلی ہے ہر لحظہ تشفی ہے ہر وقت ہے دل جوئی ہر دم ہیں مداراتیں معراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت اک فاسق و فاجر میں اور ایسی کراماتیں بیٹھا ہوا توبہ کی تو خیر منایا کر ٹلتی نہیں یوں جوہرؔ اس دیس کی ...

    مزید پڑھیے

    عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے

    عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے غیر سمجھا ہے کہ میری آہ بے تاثیر ہے خوگر قید وفا پر کھل چکا زنداں کا راز جرم تھی وہ قید یہ اس جرم کی تعزیر ہے بے گناہی سے بھی بڑھ کر ہے اگر کوئی گناہ تو سزائے عشق پا کر خجلت تقصیر ہے چھوڑ میری فکر غافل رو خود اپنی قید پر جس کو تو زیور سمجھتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیے

    دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیے اس بت کدے کو کعبۂ ایماں بنائیے طوفان بن کے اٹھیے جہان خراب میں ہستی کو اک شرارۂ رقصاں بنائیے دوڑائیے وہ روح کہ ہر ذرہ جاگ اٹھے اجڑے ہوئے وطن کو گلستاں بنائیے پھر دیجئے نگاہ کو پیغام جستجو منزل سے کیوں نظر کو گریزاں بنائیے آخر تو ختم ہوں گی کہیں ...

    مزید پڑھیے

    خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی

    خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی اس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہی خوف غماز عدالت کا خطر دار کا ڈر ہیں جہاں اتنے وہاں خوف خدا اور سہی عہد اول کو بھی اچھا ہے جو پورا کر دو تم وفادار ہو تھوڑی سی وفا اور سہی جس نے ہنگامہ عدالت کا تری دیکھا ہے اس گنہ گار کو اک روز جزا اور سہی کشور ...

    مزید پڑھیے

    گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے

    گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے عشق کا دم اسی پہ بھرتا ہے جان دیتا ہے عیش فانی پر بس اسی زندگی پہ مرتا ہے راحت جاوداں کو بھول گیا کوئی دنیا میں یہ بھی کرتا ہے عشق بن کر جئے تو خاک جیے زندہ وہ ہے جو ان پہ مرتا ہے نام پر اس کے سب جو دے بیٹھا وہی اک ہے جو نام کرتا ہے وقف مومن ہے آزمائش ...

    مزید پڑھیے

    جنوں ہی سے مگر بالکل دل دیوانہ خالی ہے

    جنوں ہی سے مگر بالکل دل دیوانہ خالی ہے نہ مانوں گا اثر سے نعرۂ مستانہ خالی ہے مروت سے تری ہم بیکسوں کی شرم رہ جاتی بھری محفل میں ساقی اک یہی پیمانہ خالی ہے دلا ڈر ہے کہیں کعبہ پہنچ کر تو نہ کہہ بیٹھے کہ واپس چل یہاں سے اب تو یہ بت خانہ خالی ہے ہمیں ذوق اسیری چھوڑتا ہے کب گلستاں ...

    مزید پڑھیے

    بے خوف غیر دل کی اگر ترجماں نہ ہو

    بے خوف غیر دل کی اگر ترجماں نہ ہو بہتر ہے اس سے یہ کہ سرے سے زباں نہ ہو ہوں بے ہراس یہ مجھے رکھیں کسی جگہ ڈر ہو وہاں کہ تیری حکومت جہاں نہ ہو اک تو جو مہرباں ہو تو ہر اک ہو مہرباں اور یوں نہ ہو بلا سے کوئی مہرباں نہ ہو ہم کو تو ایک تجھ سے دو عالم میں ہے غرض سب بدگماں ہوا کریں تو ...

    مزید پڑھیے

    تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیے

    تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیے کب در مے خانۂ کوثر کھلے طاقت پرواز ہی جب کھو چکی پھر ہوا کیا گر ہوا میں پر کھلے چاک کر سینہ کو پہلو چیر ڈال یوں ہی کچھ حال دل مضطر کھلے رات تلچھٹ تک نہ چھوڑی تب کہیں راز ہائے بادہ و ساغر کھلے لو وہ آ پہنچا جنوں کا قافلہ پاؤں زخمی خاک منہ پر سر ...

    مزید پڑھیے

    قید اور قید بھی تنہائی کی

    قید اور قید بھی تنہائی کی شرم رہ جائے شکیبائی کی سوجھتا کیا ہمیں ان آنکھوں سے شرط تھی قلب کی بینائی کی در بت خانہ سے بڑھنے ہی نہ پائے گرچہ اک عمر جبیں سائی کی قیس کو ناقۂ لیلیٰ نہ ملا گو بہت بادیہ پیمائی کی ہم نے ہر ذرہ کو محمل پایا ہے یہ قسمت ترے صحرائی کی وقف ہے اس کے لیے جان ...

    مزید پڑھیے

    کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیا

    کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیا کیا ہوا جو آج یوں جامے سے باہر ہو گیا میرا شہرہ آج اک عالم میں گھر گھر ہو گیا تیرے ہاتھوں مجھ کو قاتل یہ میسر ہو گیا کیوں نہیں ملتا ابھی تک تشنہ لب ہیں بادہ خوار کیا ترا ساغر بھی ساقی جام کوثر ہو گیا اس قدر وحشت بھی اے دست جنوں کس کام کی تیرے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2