جنوں ہی سے مگر بالکل دل دیوانہ خالی ہے
جنوں ہی سے مگر بالکل دل دیوانہ خالی ہے
نہ مانوں گا اثر سے نعرۂ مستانہ خالی ہے
مروت سے تری ہم بیکسوں کی شرم رہ جاتی
بھری محفل میں ساقی اک یہی پیمانہ خالی ہے
دلا ڈر ہے کہیں کعبہ پہنچ کر تو نہ کہہ بیٹھے
کہ واپس چل یہاں سے اب تو یہ بت خانہ خالی ہے
ہمیں ذوق اسیری چھوڑتا ہے کب گلستاں میں
قفس میں جب تک اے صیاد کوئی خانہ خالی ہے
یہ مانا ہم نے جوہرؔ شہر چھوڑا پر کہاں جائیں
وہ تیرے دم سے تھا آباد اب ویرانہ خالی ہے