Mohammad Ali Jauhar

محمد علی جوہرؔ

ہندوستان کی تحریک آزادی کے اہم رہنما

One of the prominent leaders of indian freedom movement.

محمد علی جوہرؔ کی غزل

    دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد

    دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو باقی ہے موت ہی دل بے مدعا کے بعد تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد اک شہر آرزو پہ بھی ہونا پڑا خجل ھل من مزید کہتی ہے رحمت دعا کے بعد لذت ہنوز ...

    مزید پڑھیے

    خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہی

    خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہی ہوس زیست ہو اس درجہ تو مرنا ہے یہی قلزم عشق میں ہیں نفع و سلامت دونوں اس میں ڈوبے بھی تو کیا پار اترنا ہے یہی قید گیسو سے بھلا کون رہے گا آزاد تیری زلفوں کا جو شانوں پہ بکھرنا ہے یہی اے اجل تجھ سے بھی کیا خاک رہے گی امید وعدہ کر کے جو ترا روز ...

    مزید پڑھیے

    تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے

    تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے پر غیب سے سامان بقا میرے لیے ہے پیغام ملا تھا جو حسین ابن علی کو خوش ہوں وہی پیغام قضا میرے لیے ہے یہ حور بہشتی کی طرف سے ہے بلاوا لبیک کہ مقتل کا صلا میرے لیے ہے کیوں جان نہ دوں غم میں ترے جب کہ ابھی سے ماتم یہ زمانہ میں بپا میرے لیے ہے میں ...

    مزید پڑھیے

    ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کا

    ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کا تیری رحمت ہے سبب میری سبک ساری کا دار نے اک سگ دنیا کو یہ بخشا ہے عروج ہے فرشتوں میں بھی چرچا مری دیں داری کا دل و جاں سونپ چکے ہم تجھے اے جان جہاں اب ہمیں خوف ہی کیا اپنی گرفتاری کا جان بھی چیز ہے کوئی کہ رکھیں تم سے دریغ پاس اتنا بھی نہ ہو ...

    مزید پڑھیے

    ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوست

    ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوست راضی ہو بس اسی میں ہو جس میں رضائے دوست طغرائے امتیاز ہے خود ابتلائے دوست اس کے بڑے نصیب جسے آزمائے دوست یاں جنبش مژہ بھی گناہ عظیم ہے چپ چاپ دیکھتے رہو جو کچھ دکھائے دوست ملتی نہیں کسی کو سند امتحاں بغیر دار و رسن کے حکم کو سمجھو صلائے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2