معظم عزم کے تمام مواد

2 غزل (Ghazal)

    اک ایسی انوکھی زباں جانتا ہوں

    اک ایسی انوکھی زباں جانتا ہوں کہ ہر زخم کی داستاں جانتا ہوں نہیں کوئی شے درمیاں جانتا ہوں فقط میں زمیں آسماں جانتا ہوں یوں ہی بات ہوتی نہیں ہے غزل سے اشاروں کی طرز بیاں جانتا ہوں بہاروں کا ضامن جو سب کے لئے ہے اسی کو میں دور خزاں جانتا ہوں کریں گے نہ پھولوں کی بارش کبھی وہ کہ ...

    مزید پڑھیے

    وقت بدلا لوگ بدلے اب کہاں وہ مستیاں

    وقت بدلا لوگ بدلے اب کہاں وہ مستیاں جب کوئی لے چھیڑتا تھا جھومتی تھیں ہستیاں نفرتوں کی پشت پر ہیں اونچی اونچی ہستیاں اب محبت کی حفاظت کر رہی ہیں پستیاں ڈوبنے والے تھے جب ہم اک سہارا بھی نہ تھا جیسے ہی ساحل پہ آئے گھیر بیٹھیں کشتیاں میری خودداری ہے تنہا اس ہجوم حرص میں دیکھیے ...

    مزید پڑھیے