وقت بدلا لوگ بدلے اب کہاں وہ مستیاں

وقت بدلا لوگ بدلے اب کہاں وہ مستیاں
جب کوئی لے چھیڑتا تھا جھومتی تھیں ہستیاں


نفرتوں کی پشت پر ہیں اونچی اونچی ہستیاں
اب محبت کی حفاظت کر رہی ہیں پستیاں


ڈوبنے والے تھے جب ہم اک سہارا بھی نہ تھا
جیسے ہی ساحل پہ آئے گھیر بیٹھیں کشتیاں


میری خودداری ہے تنہا اس ہجوم حرص میں
دیکھیے صف میں کھڑی ہیں کیسی کیسی ہستیاں


کیا پتا دل کے کنارے اس جگہ پر جا ملیں
جس طرف کو چل پڑی ہیں زندگی کی کشتیاں


لے کے آیا جیتنے کا عزم دریا پار وہ
جس نے ساحل پر پہنچ کر پھونک دی ہیں کشتیاں