اک ایسی انوکھی زباں جانتا ہوں

اک ایسی انوکھی زباں جانتا ہوں
کہ ہر زخم کی داستاں جانتا ہوں


نہیں کوئی شے درمیاں جانتا ہوں
فقط میں زمیں آسماں جانتا ہوں


یوں ہی بات ہوتی نہیں ہے غزل سے
اشاروں کی طرز بیاں جانتا ہوں


بہاروں کا ضامن جو سب کے لئے ہے
اسی کو میں دور خزاں جانتا ہوں


کریں گے نہ پھولوں کی بارش کبھی وہ
کہ جن کو میں تیر و کماں جانتا ہوں


مرا عزم سارے زمانے سے اعلیٰ
کسے ہے یہ وہم و گماں جانتا ہوں