Moazzam Ali Khan

معظم علی خاں

معظم علی خاں کی غزل

    رنگ شفق بس حسن نظر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

    رنگ شفق بس حسن نظر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے شام کا چہرہ خون سے تر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ایک چمکتی شے کو آخر تم آنسو کیوں سمجھے ہو دست خودی میں کوئی گہر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے سب کہتے ہیں کھو کر اس کو کھویا کھویا رہتا ہوں اس کا تصور خواب اثر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے جہد مسلسل کے ...

    مزید پڑھیے

    سپرد آہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے

    سپرد آہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے یہ دل تباہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے غموں سے شغل رفاقت تو خیر مشکل تھا مگر نباہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے طلسم جنت آدم تھا رات کا منظر جو ہم گناہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے ہم اپنے قلب منور کو اے شب احساس چراغ راہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے مآل حسن نظر پر ...

    مزید پڑھیے

    ترک الفت میں ہے آرام بہت

    ترک الفت میں ہے آرام بہت گل رخو ہو چکے بدنام بہت ہم ہی نادان تھے جرأت نہ ہوئی کوئی آیا تو لب بام بہت ہو مقدر تو قدم چومے گی سمت منزل تو ہیں دو گام بہت ٹمٹماتے ہیں گئی رات دیے جگمگاتے تھے سر شام بہت بھول جاتا ہوں میں خود کو اکثر یاد آتے ہیں کئی نام بہت دیدہ ور فرق سمجھ لیں ...

    مزید پڑھیے

    پتھروں کے درمیاں بہتی ندی اچھی لگی

    پتھروں کے درمیاں بہتی ندی اچھی لگی جب حصار غم میں گزری زندگی اچھی لگی ایک پتھر پھینکنے پر گاؤں کے تالاب میں پر سکوں موجوں کی اکثر برہمی اچھی لگی شب کی تنہائی میں دروازے پہ دستک دفعتاً گھپ اندھیرے میں اچانک روشنی اچھی لگی بخشتی ہے چاندنی کہرے کو بھی تابانیاں اس کے چہرے پر ...

    مزید پڑھیے

    رواج قتل انسانی بہت ہے

    رواج قتل انسانی بہت ہے یہاں مرنے کی آسانی بہت ہے کہیں برسات کے موسم میں سوکھا کہیں دریا میں طغیانی بہت ہے خوشی کا قحط ہے بستی میں دل کی مگر غم کی فراوانی بہت ہے لباس مصلحت تم کو مبارک ہمیں تو چاک دامانی بہت ہے سمجھتی ہے اندھیروں کو اجالا ہماری عقل دیوانی بہت ہے سراپا حسن ...

    مزید پڑھیے

    بہت قریب ہے وہ حسن آفتاب نما

    بہت قریب ہے وہ حسن آفتاب نما وصال یار بھی ہونے لگا عذاب نما تمام پھولوں کی خوشبو کا امتزاج ہے وہ دیار حسن میں اک شخص ہے گلاب نما ہر ایک لفظ کی قسمت اسی میں لکھی ہے وہ اک حسین سا چہرہ جو ہے کتاب نما خمار بادہ سے ہے مختلف مزاج اس کا چھٹک رہا ہے یہ آنکھوں سے کیا شراب نما ہم اس کے ...

    مزید پڑھیے

    اجنبی شہر میں گھر یاد آیا

    اجنبی شہر میں گھر یاد آیا دھوپ دیکھی تو شجر یاد آیا قلب دولت کو تمنائے سکوں ذہن افلاس کو زر یاد آیا بند دروازے پہ دستک سن کر ہے دعاؤں میں اثر یاد آیا دشت افکار کی وسعت یا رب کوئی دیوار نہ در یاد آیا کیف آور ترے لہجے کی کھنک نشۂ زود اثر یاد آیا قصر امروز میں اردو دیکھی لال قلعہ ...

    مزید پڑھیے