اجنبی شہر میں گھر یاد آیا

اجنبی شہر میں گھر یاد آیا
دھوپ دیکھی تو شجر یاد آیا


قلب دولت کو تمنائے سکوں
ذہن افلاس کو زر یاد آیا


بند دروازے پہ دستک سن کر
ہے دعاؤں میں اثر یاد آیا


دشت افکار کی وسعت یا رب
کوئی دیوار نہ در یاد آیا


کیف آور ترے لہجے کی کھنک
نشۂ زود اثر یاد آیا


قصر امروز میں اردو دیکھی
لال قلعہ میں ظفرؔ یاد آیا


چند اشعار معظمؔ کہہ کر
آج غالبؔ کا ہنر یاد آیا