رنگ شفق بس حسن نظر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے
رنگ شفق بس حسن نظر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے شام کا چہرہ خون سے تر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ایک چمکتی شے کو آخر تم آنسو کیوں سمجھے ہو دست خودی میں کوئی گہر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے سب کہتے ہیں کھو کر اس کو کھویا کھویا رہتا ہوں اس کا تصور خواب اثر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے جہد مسلسل کے ...