مصداق اعظمی کی نظم

    میں نہیں چاہتا

    میں نہیں چاہتا کوئی بچہ ریل گاڑی کا فرش صاف کرے نٹ کی رسی پہ اب نظر آئے جسم کو موڑنے کا فن سیکھے شیر کے منہ میں ہاتھ کو ڈالے تپتے بھٹوں کی اینٹ کو ڈھوئے ہوٹلوں اور شراب خانوں کی اپنے دامن سے میز صاف کرے سانپ کو رکھ کے اک پٹارے میں شاہراہوں پہ بھیک بھی مانگے ناچ گانے سے سب کو خوش کر ...

    مزید پڑھیے

    محافظ

    جو تیری نیندوں کو جاگتا تھا جو تیری کھانسی کو کھانستا تھا جو تیری بارش کو بھیگتا تھا جو تیری سردی کو ہانپتا تھا جو اپنے حصے کے سارے لقمے تجھے کھلا کے ڈکارتا تھا جو اپنے ہاتھوں کے سخت چھالے چھپا کے تجھ کو دلارتا تھا جو اپنے کپڑوں میں تیرے کپڑے کے ناپ رکھ رکھ کے ناپتا تھا جو تیرے ...

    مزید پڑھیے