مصداق اعظمی کی غزل

    وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ

    وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ ڈوب جاتا ہے کوئی کیوں اتنی آسانی کے ساتھ میری سانسوں کی مہک کا بھی بہت چرچا ہوا رات جب میں نے گزاری رات کی رانی کے ساتھ میں وہی ہوں اور میرا مرتبہ مجھ سے بلند نام اپنا لے رہا ہوں میں بھی حیرانی کے ساتھ میں نے تو کچھ آستیں کے سانپ گنوائے تھے ...

    مزید پڑھیے

    آہٹیں سن کر ہی مر جاتی ہے صحراؤں کی خاک

    آہٹیں سن کر ہی مر جاتی ہے صحراؤں کی خاک اب ترے وحشی سے ڈر جاتی ہے صحراؤں کی خاک اس جنون عشق کی ٹھوکر میں آ جانے کے بعد آسمانوں میں بکھر جاتی ہے صحراؤں کی خاک خوش نما منظر بھی سب دھندھلے نظر آتے ہیں یار جب دلوں میں بھی اتر جاتی ہے صحراؤں کی خاک کون خیمہ زن کہاں ہے آئیے ڈھونڈیں ...

    مزید پڑھیے

    تعلق کی کڑی ٹوٹی نہیں ہے

    تعلق کی کڑی ٹوٹی نہیں ہے امید زندگی ٹوٹی نہیں ہے فقط ملنا ملانا کم ہوا ہے ہماری دوستی ٹوٹی نہیں ہے بڑی آندھی چلی ہے اس چمن میں مگر کوئی کلی ٹوٹی نہیں ہے کمندیں پھینکیے عقل و خرد کی فصیل آگہی ٹوٹی نہیں ہے پرانے بانس کے پل کی ہمارے کوئی بھی آس ابھی ٹوٹی نہیں ہے سنا ہے باوجود ...

    مزید پڑھیے

    اک ضرورت ہے جو تحویل تک آ پہنچی ہے

    اک ضرورت ہے جو تحویل تک آ پہنچی ہے ہر حقیقت یہاں تمثیل تک آ پہنچی ہے اب اخوت پہ بھروسہ نہیں کرتی دنیا آگہی نیت قابیل تک آ پہنچی ہے اے مرے مونس و غم خوار مجھے مرنے دے بات اب حکم کی تعمیل تک آ پہنچی ہے اب سخن ور ہی نہیں خود کو مصور لکھیے شاعری اب فن تشکیل تک آ پہنچی ہے کوشش امن و ...

    مزید پڑھیے

    صبح کا منظر ہے لیکن گل کوئی تازہ نہیں

    صبح کا منظر ہے لیکن گل کوئی تازہ نہیں روئے گلشن پر کہیں بھی اوس کا غازہ نہیں ٹوٹ کر ہم چاہنے والوں سے جب بچھڑیں گے آپ ہم ہی ہم بکھریں گے لیکن مثل شیرازہ نہیں غار والوں کی طرح نکلا ہے وہ کمرے سے آج اس کو اس دنیا کی تبدیلی کا اندازہ نہیں کچھ نہ کچھ کہتے تو رہتے ہیں یہاں ہم لوگ ...

    مزید پڑھیے