وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ
وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ ڈوب جاتا ہے کوئی کیوں اتنی آسانی کے ساتھ میری سانسوں کی مہک کا بھی بہت چرچا ہوا رات جب میں نے گزاری رات کی رانی کے ساتھ میں وہی ہوں اور میرا مرتبہ مجھ سے بلند نام اپنا لے رہا ہوں میں بھی حیرانی کے ساتھ میں نے تو کچھ آستیں کے سانپ گنوائے تھے ...