اک ضرورت ہے جو تحویل تک آ پہنچی ہے

اک ضرورت ہے جو تحویل تک آ پہنچی ہے
ہر حقیقت یہاں تمثیل تک آ پہنچی ہے


اب اخوت پہ بھروسہ نہیں کرتی دنیا
آگہی نیت قابیل تک آ پہنچی ہے


اے مرے مونس و غم خوار مجھے مرنے دے
بات اب حکم کی تعمیل تک آ پہنچی ہے


اب سخن ور ہی نہیں خود کو مصور لکھیے
شاعری اب فن تشکیل تک آ پہنچی ہے


کوشش امن و اماں میں ہی یہاں لوگوں کی
زندگی شورش تاویل تک آ پہنچی ہے


بے حسی دیکھیے اس دور کے انسانوں کی
جسم کیا روح کی تحلیل تک آ پہنچی ہے


فکر مصداقؔ نے ہے خاص مسافت کر لی
آپ کی آنکھ بھی اس جھیل تک آ پہنچی ہے