دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئی
دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئی آئی ہوئی بلا مرے سر پر سے ٹل گئی پوچھا اگر کسی نے مرا آ کے حال دل بے اختیار آہ لبوں سے نکل گئی عریاں حرارت تپ فرقت سے میں رہا ہر بار میرے جسم کی پوشاک جل گئی کیفیت بہار جو یاد آئی زیر خاک داغ جنوں سے اپنی طبیعت بہل گئی اس کے دہان تنگ کی تنگی نہ ...