Mirza Raza Barq

مرزارضا برق ؔ

دبستان لکھنؤ کے ممتاز کلاسیکی شاعر، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے استاد

Prominent classical poet of Lucknow School/ Wajid Ali Shah, the last Nawab of Awadh was his disciple

مرزارضا برق ؔ کی غزل

    لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتا

    لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتا لکھنؤ لعلوں کے معدن سے بدخشاں ہوتا اے پری تو وہ پری ہے کہ تری دیکھ کے شکل ہر فرشتہ کی تمنا ہے کہ انساں ہوتا رہ گیا پردہ مرا ورنہ ترے جاتے ہی نہ یہ دامن نظر آتا نہ گریباں ہوتا آ نکلتا کبھی زاہد جو تری محفل میں ہاتھ میں شیشۂ مے طاق پہ قرآں ...

    مزید پڑھیے

    وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گے

    وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گے جب تک کہ تمہیں شہر میں رسوا نہ کریں گے گھبرا گئے بیتابی دل دیکھ کے اے جان ٹھہرو تو ابھی ہجر میں کیا کیا نہ کریں گے مر جاؤں تو مر جاؤں برا مانیں تو مانیں پھر کیسے مسیحا ہیں جو اچھا نہ کریں گے وہ حسن میں کامل ہیں تو ہم صبر میں یکتا تا عمر کبھی ...

    مزید پڑھیے

    کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا

    کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا ہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتا پھرتے ہیں وہاں آپ بھٹکتی ہے یہاں روح اب گور میں بھی ہم کو ٹھکانا نہیں ملتا بدنام کیا ہے تن انور کی صفا نے دل میں بھی اسے راز چھپانا نہیں ملتا دولت نہیں کام آتی جو تقدیر بری ہو قارون کو بھی اپنا خزانا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کا

    زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کا عالم وہی ہے آج تلک انتظار کا گزرا شراب پینے سے لے کون درد سر ساقی دماغ کس کو ہے رنج خمار کا محشر کے روز بھی نہ کھلے گی ہماری آنکھ صدمہ اٹھا چکے ہیں شب انتظار کا عبرت کی جا ہے عالم دنیا نہ کر غرور سر کاسۂ گدا ہے کسی تاجدار کا بعد فنا بھی ہے مرض عشق ...

    مزید پڑھیے

    وہ شاہ حسن جو بے مثل ہے حسینوں میں

    وہ شاہ حسن جو بے مثل ہے حسینوں میں کبھی فقیر بھی تھا ان کے ہم نشینوں میں اگر حیات ہے دیکھیں گے ایک دن دیدار کہ ماہ عید بھی آخر ہے ان مہینوں میں نہ اختلاط نہ وہ آنکھ ہے نہ وہ چتون یہ کیا سبب کہ پڑا فرق سب قرینوں میں نہیں بتوں کے تصور سے کوئی دل خالی خدا نے ان کو دئیے ہیں مکان سینوں ...

    مزید پڑھیے

    مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتا

    مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتا کبھی خیال میں موئے کمر نہیں آتا ہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو یہی ہنر ہے کہ کوئی ہنر نہیں آتا محال ہے کہ مرے گھر وہ رات کو آئے کہ شب کو مہر درخشاں نظر نہیں آتا تمام خلق میں رہتی ہے دھوپ راتوں کو وہ مہر بام سے جب تک اتر نہیں آتا محال ہے کہ جہنم میں ...

    مزید پڑھیے

    اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے

    اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے نہیں بچتا نہیں بچتا نہیں بچتا عاشق پوچھتے کیا ہو شب ہجر میں کیا ہوتا ہے بے اثر نالے نہیں آپ کا ڈر ہے مجھ کو ابھی کہہ دیجیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے کیوں نہ تشبیہ اسے زلف سے دیں عاشق زار واقعی طول شب ہجر بلا ہوتا ...

    مزید پڑھیے

    رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائے

    رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائے پہنے زنجیر جو چاندی کی طلائی ہو جائے خود فروشی کو جو تو نکلے بہ شکل یوسف اے صنم تیری خریدار خدائی ہو جائے خط توام کی طرح عاشق و معشوق ہیں ایک دونوں بے کار ہیں جس وقت جدائی ہو جائے تنگی گوشۂ عزلت ہے بیاں سے باہر نہیں امکان کہ چیونٹی کی سمائی ہو ...

    مزید پڑھیے

    لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گا

    لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گا پردہ کھل جائے گا ہر پردہ کتاں ہو جائے گا جوہر تیغ اصالت سب عیاں ہو جائے گا امتحاں کے وقت اپنا امتحاں ہو جائے گا تو اگر اے ماہ آ نکلا کسی دن بعد مرگ پردۂ خاک مزار اپنا کتاں ہو جائے گا پیچ زلفوں کے جو کھل جائیں گے روئے یار پر سنبل تر آتش گل کا ...

    مزید پڑھیے

    اثر زلف کا برملا ہو گیا

    اثر زلف کا برملا ہو گیا بلاؤں سے مل کر بلا ہو گیا جنوں لے کے ہم راہ آئی بہار نئے سر سے پھر ولولا ہو گیا دیا غیر نے بھی دل آخر اسے مجھے دیکھ کر من چلا ہو گیا سمائی دل تنگ کی دیکھیے کہ عالم میں ثابت خلا ہو گیا تعلی زمیں سے جو نالوں نے کی فلک پر عیاں زلزلہ ہو گیا ہوا قتل بے جرم میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3