Mirza Raza Barq

مرزارضا برق ؔ

دبستان لکھنؤ کے ممتاز کلاسیکی شاعر، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے استاد

Prominent classical poet of Lucknow School/ Wajid Ali Shah, the last Nawab of Awadh was his disciple

مرزارضا برق ؔ کی غزل

    پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیا

    پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیا رنگ رخ بہار گلستاں اڑا دیا وحشت میں قید دیر و حرم دل سے اٹھ گئی حقا کہ مجھ کو عشق نے رستا بتا دیا پھر جھانک تاک آنکھوں نے میری شروع کی پھر غم کا میرے نالوں نے لگا لگا دیا انگڑائی دونوں ہاتھ اٹھا کر جو اس نے لی پر لگ گئے پروں نے پری کو اڑا ...

    مزید پڑھیے

    جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائے

    جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائے گوہر شبنم گل نیر اعظم ہو جائے مرثیہ ہو مجھے گانا جو سنوں فرقت میں بے ترے بزم غنا مجلس ماتم ہو جائے دیکھ کر طول شب ہجر دعا کرتا ہوں وصل کے روز سے بھی عمر مری کم ہو جائے دیکھ کر پھولوں کو انگاروں پہ لوٹوں اے گل بے ترے گلشن فردوس جہنم ہو جائے کم ...

    مزید پڑھیے

    مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا

    مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا پابند یہ فقیر نہیں سنگ و خشت کا سر سبز ہوں جو آپ دکھا دیجے خط سبز کشتوں کو کھیت میں ابھی عالم ہو کشت کا اس حور کی جو گلشن عارض کی یاد تھی دیکھا کیا فراق میں عالم بہشت کا کیا منشی ازل کی یہ صنعت ہے دیکھنا ماہر نہیں کسی کی کوئی سر نوشت کا نادان ...

    مزید پڑھیے

    شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے

    شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے تیرے رخ پر نگہ پھسلتی ہے خاک اڑاتی ہے اے صبا میری بے ادب کس طرح سے چلتی ہے وہ نہ آیا تو جان جائیں گے کب طبیعت مری بہلتی ہے دل نکلتا ہے اس کے گیسو سے ناگنی دیکھو من اگلتی ہے نگہ گرم یار دیکھے ہے کب کسی سے یہ آنکھ جلتی ہے اک پری رو پہ برقؔ مرتا ہوں جان اس ...

    مزید پڑھیے

    نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والے

    نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والے خاک کے نیچے گئے عرش کے جانے والے کشور عشق کی رسمیں عجب الٹی دیکھیں سلطنت کرتے ہیں سب دل کے چرانے والے منعمو عالم دنیا ہے سرائے عبرت جائیں گے سوئے عدم خلق میں آنے والے بوریا ساتھ نہ جائے گا نہ تخت سلطاں سب برابر ہیں بشر خلق سے جانے والے کوئی ...

    مزید پڑھیے

    بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیں

    بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیں ان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیں لن ترانی کے یہ معنی ہیں بجا ہے دعویٰ دیکھے بے پردہ تجھے کوئی یہ مقدور نہیں وہ کہاں تاج کہاں تخت کہاں مال و منال قابل اب بھیک کے بھی کاسۂ فغفور نہیں بے عبادت نہ خدا بخشے گا سبحان اللہ ایسی فردوس سے ہم گزرے ...

    مزید پڑھیے

    نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا

    نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا وہی وہی نظر آئے گا جہاں جہاں دیکھا بہشت میں بھی اسی حور کو رواں دیکھا یہاں جو دیکھ چکے تھے وہی وہاں دیکھا خزان عمر کجا و کجا بہار شباب فلک کو رشک ہوا کوئی جب جواں دیکھا گئے جہان سے جو لوگ دو جہاں سے گئے کسی نے پھر نہ کبھی اپنا کارواں ...

    مزید پڑھیے

    چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا

    چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا تن پہ ہر قطرہ پسینہ کا شرارا ہو گیا چھپ سکا دم بھر نہ راز دل فراق یار میں وہ نہاں جس دم ہوا سب آشکارا ہو گیا جس کو دیکھا چشم وحدت سے وہی معشوق ہے پڑ گئی جس پر نظر اس کا نظارا ہو گیا ہم کناری کی ہوس اے گوہر یکتا یہ ہے آب ہو کر غم سے دل دریا ہمارا ...

    مزید پڑھیے

    قمر کی وہ خورشید تصویر ہے

    قمر کی وہ خورشید تصویر ہے گلے میں ستاروں کی زنجیر ہے کہاں پائے جاناں کہاں میرا سر یہ طالع یہ قسمت یہ تقدیر ہے خفا آپ سے آپ ہوتے ہو کیوں بتا دو جو کچھ میری تقصیر ہے نہ کھولو خط اس کا دھڑکتا ہے دل خدا جانے کیا اس میں تحریر ہے نمایاں ہے قوس قزح ابر میں مسی پر لکھوٹے کی تحریر ...

    مزید پڑھیے

    میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائے

    میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائے پانی دینے سے نہال قد بالا بڑھ جائے جوش وحشت یہی کہتا ہے نہایت کم ہے دو جہاں سے بھی اگر وسعت صحرا بڑھ جائے قمریاں دیکھ کے گلزار میں دھوکہ کھائیں طوق منت کا جو اے سرو تمنا بڑھ جائے ہاتھ پر ہاتھ اگر مار کے دوڑوں باہم راہ الفت میں قدم قیس سے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3