Mirza Mayal Dehlvi

مرزا مائل دہلوی

مابعد کلاسکی شاعر،داغ دہلوی کے رنگ میں شعر گوئی کے مشہور

Prominent later-classical poet reflecting trends of Dagh Dehlavi style

مرزا مائل دہلوی کی غزل

    نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاں

    نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاں نہ ہو شباب تو کیفیت شباب کہاں چلا ہوں کعبے کو لیکن چلا نہیں جاتا نہ ہو جو شوق ہی دل میں تو اضطراب کہاں عدو کی بزم میں دشمن ہزار بیٹھے ہیں ملا بھی ہائے وہ کافر تو بے حجاب کہاں کسی طرح شب غم کی سحر نہیں ہوتی خدا ہی جانے کہ ڈوبا ہے آفتاب کہاں حرم میں ...

    مزید پڑھیے

    اے ستم گر نہیں دیکھا جاتا

    اے ستم گر نہیں دیکھا جاتا زخم دل پر نہیں دیکھا جاتا ہم سے زاہد کو برابر اپنے لب کوثر نہیں دیکھا جاتا دشت کی جس میں کوئی بات نہ ہو ہم سے وہ گھر نہیں دیکھا جاتا ہم نے دیکھا ہی نہیں جلوۂ یار کہیں کیوں کر نہیں دیکھا جاتا دیکھنا شوق شہادت میرا مجھ سے خنجر نہیں دیکھا جاتا طور پر ...

    مزید پڑھیے

    اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھا

    اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھا شوخ جیسا کہ ترے رنگ حنا کو دیکھا تجھ کو دیکھا نہ ترے ناز و ادا کو دیکھا تیری ہر طرز میں اک شان خدا کو دیکھا ہیں تجھے دیکھ کے حوران بہشتی بیتاب یا ترے کشتۂ انداز و ادا کو دیکھا تشنۂ آب دم تیغ نے پینا کیسا آنکھ اٹھا کر نہ کبھی آب بقا کو ...

    مزید پڑھیے

    شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیا

    شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیا مرنا بھی مرا ہائے مرے کام نہ آیا اللہ شب ہجر پھر ایسی نہ دکھائے گھڑیوں تو مجھے یاد ترا نام نہ آیا یہ طرز جفا کس سکھائی تھی ستم گر سو ظلم ہوئے ایک بھی الزام نہ آیا بت خانہ تو بت خانہ ہے اللہ ری قسمت کعبہ سے بھی مائلؔ کبھی ناکام نہ آیا

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2