نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاں
نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاں نہ ہو شباب تو کیفیت شباب کہاں چلا ہوں کعبے کو لیکن چلا نہیں جاتا نہ ہو جو شوق ہی دل میں تو اضطراب کہاں عدو کی بزم میں دشمن ہزار بیٹھے ہیں ملا بھی ہائے وہ کافر تو بے حجاب کہاں کسی طرح شب غم کی سحر نہیں ہوتی خدا ہی جانے کہ ڈوبا ہے آفتاب کہاں حرم میں ...