فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہے
فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہے غضب میں جان دل بے قرار رکھتا ہے گل چمن نہ در شاہوار رکھتا ہے بھرا بھرا جو بدن میرا یار رکھتا ہے لطیف روح کی مانند جسم ہے کس کا پیادہ کون وقار سوار رکھتا ہے جدا جدا ہے حسینان دہر کا انداز ہر ایک طرح کی ہر گل بہار رکھتا ہے فریب حسن سے اللہ آدمی کو ...