Mirza Maseeta Beg Muntahi

مرزا مسیتابیگ منتہی

مرزا مسیتابیگ منتہی کی غزل

    فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہے

    فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہے غضب میں جان دل بے قرار رکھتا ہے گل چمن نہ در شاہوار رکھتا ہے بھرا بھرا جو بدن میرا یار رکھتا ہے لطیف روح کی مانند جسم ہے کس کا پیادہ کون وقار سوار رکھتا ہے جدا جدا ہے حسینان دہر کا انداز ہر ایک طرح کی ہر گل بہار رکھتا ہے فریب حسن سے اللہ آدمی کو ...

    مزید پڑھیے

    جور افلاک بسکہ جھیلے ہیں

    جور افلاک بسکہ جھیلے ہیں ایسے پاپڑ بہت سے بیلے ہیں گہ حضوری ہے گاہ ہے دوری گہ اکیلے ہیں گہ دو کیلے ہیں اسپ تازی نظر نہیں آتے سو کھروں سے بھرے طویلے ہیں کہتے ہیں یاں جسے قمار عشق کھیل ایسے بہت سے کھیلے ہیں جیتے ہیں وہ قمار عشق میں یار جان پر اپنی جو کہ کھیلے ہیں ٹھہرے کب جنگ ...

    مزید پڑھیے

    رہ گئے اشکوں میں لخت جگر آتے آتے

    رہ گئے اشکوں میں لخت جگر آتے آتے رک گئے بحر سے لعل و گہر آتے آتے تھم گئے قطرۂ خون جگر آتے آتے رک گئے مجمر‌ دل سے شرر آتے آتے ہوتے ہوتے نہ ہوا مصرع رنگیں موزوں بند کیوں ہو گیا خون جگر آتے آتے تھم گئے اشک مرے آنکھ سے ڈھلتے ڈھلتے رہ گئے چشم صدف سے گہر آتے آتے رہ گیا کہنے پہ غمازوں ...

    مزید پڑھیے

    یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھ

    یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھ بر خلاف اس کے یہاں تو نے کیا کیا کیا کچھ حور دی خلد دیا قصر دیا رہنے کو مجھ گنہ گار کو خالق نے دیا کیا کیا کچھ سالہا سال بہار چمن عالم نے رنگ دکھلائے ہیں ہم کو بخدا کیا کیا کچھ گہ خزاں آئی گلستاں میں کبھی باد بہار سامنے آنکھوں کے بندے کے ہوا ...

    مزید پڑھیے

    صرصر گیسو ہلا رہی ہے

    صرصر گیسو ہلا رہی ہے سر پر کالے کھلا رہی ہے فرقت میں خوں رلا رہی ہے تقدیر یہ رنگ لا رہی ہے داغوں سے دل جلا رہی ہے الفت سکے بٹھا رہی ہے دامن میں ہے تیرے بوئے کاکل کیوں مجھ کو صبا اڑا رہی ہے حال تپ ہجر کچھ نہ پوچھو دل کھا چکی جان کھا رہی ہے جھیلی ہوئی ہے جفا طبیعت برسوں ہی مبتلا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3