حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے
حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے بند اس شیشۂ نازک میں پری رہتی ہے دل وہاں کھلتا ہے جس جا کہ رہے جام شراب دانہ واں اگتا ہے جس جا کہ تری رہتی ہے طفلی و عہد جوانی کا نہ پوچھو احوال بے خودی آگے تھی اب بے خبری رہتی ہے باغ عالم میں نہیں دست کرم کو ہے زوال شاخ یہ وہ ہے جو تا حشر ہری ...