Mirza Maseeta Beg Muntahi

مرزا مسیتابیگ منتہی

مرزا مسیتابیگ منتہی کی غزل

    حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے

    حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے بند اس شیشۂ نازک میں پری رہتی ہے دل وہاں کھلتا ہے جس جا کہ رہے جام شراب دانہ واں اگتا ہے جس جا کہ تری رہتی ہے طفلی و عہد جوانی کا نہ پوچھو احوال بے خودی آگے تھی اب بے خبری رہتی ہے باغ عالم میں نہیں دست کرم کو ہے زوال شاخ یہ وہ ہے جو تا حشر ہری ...

    مزید پڑھیے

    جان دی ان پہ مر مٹے سسکے

    جان دی ان پہ مر مٹے سسکے ہیں حسیں لوگ آشنا کس کے ان کو سکھلائی ہم نے آرائش روح پھونکی ہے شخص بے حس کے نالے پہنچے غریب کے تا عرش بچ گئے ڈنکے مرد مفلس کے رکھ کے خنجر گلے پہ کہتا ہے مار ڈالا اگر ذرا کھسکے بزم میں جا ملی رفیقوں کو کانٹے بوئے ہیں باغ میں بس کے کیا بتائیں کہ کس کے ...

    مزید پڑھیے

    آپ آئے تھے یاں جفا کے لئے

    آپ آئے تھے یاں جفا کے لئے جائیے بھی کہیں خدا کے لئے دل دیا تھا تمہیں جفا کے لئے ہوش میں آئیے خدا کے لئے تیرے بازار دہر میں گردوں ہم بھی آئے ہیں اک قبا کے لئے پاؤں ہیں کوچۂ توکل میں ہاتھ اٹھتے نہیں دعا کے لئے آ کبھی تو مرے قفس کی طرف اے نسیم چمن خدا کے لئے ہے تہ خاک فرش خاک ...

    مزید پڑھیے

    منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا

    منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا جام‌ مئے الست بھرا تھا چھلک گیا پیری ہوئی شباب سے اترا جھٹک گیا شاعر ہوں میرا مصر ثانی لٹک گیا مجھ رند‌ پاک کا کبھی چلو نہ بھر دیا ساقی ترے کرم سے ہر اک یار چھک گیا میں لوٹ ہو گیا ہوں خط سبز رنگ پر خار چمن سے دامن دل پہ اٹک گیا پیری میں دل دیا بت ...

    مزید پڑھیے

    میٹھی ہے ایسی بات اس کی

    میٹھی ہے ایسی بات اس کی لونڈی ہے اک نبات اس کی سمجھا نہ میں ایک بات اس کی مجھ پر کیا کائنات اس کی عالم ہے بے ثبات اے دل اک ذات کو ہے ثبات اس کی مہ اس کا ہے آفتاب اس کا دن اس کا ہے اور رات اس کی کس منہ سے کروں میں وصف اس کا ہے عقل سے دور ذات اس کی ممبر پہ جو بک رہا ہے واعظ کب سنتا ...

    مزید پڑھیے

    دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میں

    دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میں خوب گزر جائے گی اپنی ساقی سے یارانے میں سیر طبیعت ہو جائے گی نشہ جو ہے ہووے گا وہی فرق نہیں ہے ساقی ہرگز چلو میں پیمانے میں روح ہے جب تک جسم کے اندر جسم پہ میرے رونق ہے کاشانہ آباد ہے جب تک بلبل ہے کاشانے میں دست تمنا قطع ہوا برباد ...

    مزید پڑھیے

    ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہو

    ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہو مسند ہو کہ اس میں بوریا ہو جب قابل دید دل ربا ہو اللہ کرے کہ با وفا ہو بھیجا نہیں خط شوق کب سے معلوم ہوا کہ تم خفا ہو بے تابئ دل اگر دکھاؤں کوئی نہ کسی کا مبتلا ہو مرتا ہے زر پہ اہل دنیا نامرد کو کب خواہش‌ طلا ہو مٹی کر دے جو آپ کو تو نظروں میں خاک کیمیا ...

    مزید پڑھیے

    فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کو

    فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کو غضب میں جان کو ڈالا جتا کر آشنائی کو مٹایا پاس رسوائی سے میری آشنائی کو بچھاؤں آپ کی عصمت کو اوڑھوں پارسائی کو نہ آیا بعد مردن بھی لحد پر فاتحہ پڑھنے میں اتنا بھی نہ سمجھا تھا تری ناآشنائی کو نہ دل اپنا ہوا اپنا نہ اک بت پر ہوا قابو کریں گے یاد ...

    مزید پڑھیے

    بزم عالم میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤں

    بزم عالم میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤں تیری صورت کے نہ دیکھے پیارے پیارے ہاتھ پاؤں بحر الفت میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤں لگ رہے مانند خس آخر کنارے ہاتھ پاؤں عاشق موئے کمر کی لے خبر او بے خبر سوکھ کر تنکا ہوئے ہیں اس کے سارے ہاتھ پاؤں میری خدمت سے نہایت خوش ہوا وہ بد ...

    مزید پڑھیے

    نفس سگ پلید کو گر اپنے ماریے

    نفس سگ پلید کو گر اپنے ماریے مانند‌ شیر دشت جہاں میں ڈکاریے اس گل کو جوش گل میں یہ کہہ کر ابھاریے گلشن میں عندلیب کو چل کر پکاریے پھر مرغ دل کو پھانسیے پھر جال ماریے پھر ہو سکے تو آپ سے گیسو سنواریے پیری میں کیف عشق سے توبہ تو کیجیے منزل رہی ہے تھوڑی سی ہمت نہ ہاریے گرداب بحر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3