Mirza Maseeta Beg Muntahi

مرزا مسیتابیگ منتہی

مرزا مسیتابیگ منتہی کی غزل

    یہ جس نے جان دی ہے نان دے گا

    یہ جس نے جان دی ہے نان دے گا دیا ہے جس نے سر سامان دے گا مژہ سے اس کماں ابرو کی بچنا وہ ناوک ہے کلیجہ چھان دے گا مشقت سے وہ دے یا بے مشقت بہ ہر صورت بہ ہر عنوان دے گا وہ بوسہ دے کے دل لے کر یہ بولے عوض احساں کا کیا انسان دے گا ملے گا قدر دان عشق ہم کو خدا معشوق با ایمان دے گا سنیں ...

    مزید پڑھیے

    مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا

    مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا شمع بے پردہ ہوئی قرباں پتنگا ہو گیا گر پڑے عشاق اس کی تیغ خوں آشام پر کل شہادت کے طلب گاروں کا دنگا ہو گیا دفن کر کے فاتحہ پڑھ کے مرا بولا وہ شوخ آج بیمار محبت میرا چنگا ہو گیا بزم میں جل کر کیا شب راز الفت آشکار شمع کے مانند پروانہ بھی ننگا ہو ...

    مزید پڑھیے

    کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہے

    کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہے جہاں میں وحشت بھٹک رہی ہے ہزار سر کو پٹک رہی ہے چمن میں ہے جو کہ شاخ سنبل عروس گل کی وہ یا ہے کاکل تجھے خبر ہے کچھ اس کی بلبل جو اس کے منہ پر لٹک رہی ہے وہاں مجھے شوق دل تو لے جا جہاں نہ ساغر نہ ہوئے مینا برنگ ساقی ہر ایک بیٹھا شراب خالص ...

    مزید پڑھیے

    صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہے

    صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہے لوٹنا دل کا جگر کا پھڑپھڑانا یاد ہے یار تھا پہلو میں شیشے کی پری تھی سامنے کیوں دل نالاں تجھے وہ بھی زمانہ یاد ہے سن کے احوال محبت کو مرا بولا وہ شوخ جان دینے کا تجھے اچھا بہانہ یاد ہے لوٹ تھا دل قامت دل دار پر مدت ہوئی نخل طوبیٰ پر تھا اپنا ...

    مزید پڑھیے

    ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہے

    ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہے اگر بغل میں دل داغدار باقی ہے طفیل روح مرا جسم زار باقی ہے ہوا کے دم سے یہ مشت غبار باقی ہے بغیر روح رواں جسم زار باقی ہے نکل گئی ہے سواری غبار باقی ہے بہار میں تجھے نالے سناؤں گا بلبل اگر یہ زندگئ مستعار باقی ہے کہوں گا یار سے اک روز ہاتھ پھیلا ...

    مزید پڑھیے

    دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کو

    دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کو اللہ کرے قطع کہیں دست ہوس کو دل دیتا ہوں میں قامت‌ دل دار کو اپنا لٹکاتا ہوں میں نخل محبت میں قفس کو جیسا کہ یہ دل دام محبت میں پھنسا ہے کم دیکھتا ہوں مرغ گرفتار قفس کو نکلے ہیں خط و خال لب یار کے نزدیک اللہ نے دیا شہد و شکر مور و مگس کو دوڑاتی ...

    مزید پڑھیے

    در پہ اس شوخ کے جب جا بیٹھا

    در پہ اس شوخ کے جب جا بیٹھا یار سب کہتے ہیں اچھا بیٹھا خوبیٔ قسمت قاصد دیکھو پاس اس شوخ کے کیا جا بیٹھا ہے حباب لب دریا انساں جب ذرا سر کو اٹھایا بیٹھا ضعف پیری سے بنا نقش قدم میں وہیں کا ہوا جس جا بیٹھا صورت‌ باد رہا سر گرداں خاک کی طرح میں اٹھا بیٹھا پاؤں پھولے جو ترے کوچے ...

    مزید پڑھیے

    کرتے ہیں چین بیٹھے حسن و جمال والے

    کرتے ہیں چین بیٹھے حسن و جمال والے پھرتے ہیں مارے مارے کیا کیا کمال والے میری طرح سے ایک دن بازار سے جہاں کے جاویں گے ہاتھ خالی جتنے ہیں تال والے دم دے کے پھانستا ہے عشاق کے دنوں کو میں جانتا ہوں تجھ کو زلفوں کے جال والے محشر کا معرکہ ہو جس دم جہاں کے اندر اس دن ہمیں بچانا او ...

    مزید پڑھیے

    جوانی کی حالت گزر جائے گی

    جوانی کی حالت گزر جائے گی چڑھی ہے جو سر پر اتر جائے گی جدھر کو مری چشم تر جائے گی ادھر کام دریا کا کر جائے گی زمانے کی ایذا کا شکوہ نہ کر گزرتے گزرتے گزر جائے گی کھلے گا تجھے عشق بازی کا حال یہ حرص ہوا جبکہ مر جائے گی مرے جسم خاکی سے ہو کے جدا یہ روح رواں پھر کدھر جائے گی مرے ...

    مزید پڑھیے

    قاتل عالم سے کیا یارانہ ہے

    قاتل عالم سے کیا یارانہ ہے دل چراغ گور کا پروانہ ہے ہر مکاں میں جلوۂ جانانہ ہے عاشقوں کا ہر جگہ افسانہ ہے چھین لے گا بہر زلف عنبریں یہ دل صد چاک رشک شانہ ہے لوگ کہتے ہیں جسے پیر مغاں یار کا کیا جلوۂ مستانہ ہے حلقۂ اعدا میں ہے وہ سیم بر گنج ہے جس جا وہاں ویرانہ ہے جس جگہ چلتے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3