یہ جس نے جان دی ہے نان دے گا
یہ جس نے جان دی ہے نان دے گا دیا ہے جس نے سر سامان دے گا مژہ سے اس کماں ابرو کی بچنا وہ ناوک ہے کلیجہ چھان دے گا مشقت سے وہ دے یا بے مشقت بہ ہر صورت بہ ہر عنوان دے گا وہ بوسہ دے کے دل لے کر یہ بولے عوض احساں کا کیا انسان دے گا ملے گا قدر دان عشق ہم کو خدا معشوق با ایمان دے گا سنیں ...