Mirza Azfari

مرزا اظفری

مرزا اظفری کی غزل

    کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیر

    کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیر ہوا ہے حسن کا شہرہ ترا تو عالم گیر نہا کے بال جو سرکائے گورے چہرہ سے تو جیسے چاند نکل آیا کالی بدری چیر نہ خوب رو تجھے کہہ سکتے ہیں نہ مہر نہ ماہ عجب گڑھی ید قدرت نے کچھ تری تصویر جہاں پڑا ترا سایہ اگا وہاں گل زار قدم دھرا ہے تو جس جا بنا ہے مشک ...

    مزید پڑھیے

    مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی

    مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی ہو وہ بھی پر خلوت نہ ہو یہ بات ہے کس کام کی دو بوسے یا لگ لو گلے تب گالیاں میٹھی لگیں گر وہ نہیں اور یہ نہیں صلوات ہے کس کام کی جب یار سے ہووے جدا ایک یار جانی دوستو باغ و بہار و جام و مل برسات ہے کس کام کی ہے نسب میں عالی اگر رکھتا نہ ہو ...

    مزید پڑھیے

    سینے کا اب تک ہے زخم آلا میاں

    سینے کا اب تک ہے زخم آلا میاں ہے انی مژگاں کی یا بھالا میاں کس زمانے کی یہ دشمن تھی مری اس محبت کا ہو منہ کالا میاں عشق میں تیرے لٹے سب در اشک ایسی ور خرچی نے گھر گھالا میاں جو بساط اپنی میں تھا ہوش و خرد جھوکا جھولی میں ترے لالا میاں عشق کے زیور کو آنسو مت کہو موتیوں کی ہے یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4