Mirza Azfari

مرزا اظفری

مرزا اظفری کی غزل

    تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں تو

    تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں تو بچے خورشید بھی رکھ منہ پہ سپر دیکھیں تو میرے خورشید لقا دید کی ٹک رخصت دے تیرے دیدار کو پھر ایک نظر دیکھیں تو تیغ تولے ہوے کاندھے پہ جو آیا ہے سوار او سجیلے مرے گھوڑے سے اتر دیکھیں تو مر گیا جو اسے کہتے ہیں ہوا آج وصال جی رچا زیست سے اس ہجر ...

    مزید پڑھیے

    گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیر

    گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیر مجال کیا کہ کھلے وہ بہ ناخن تدبیر دلا تڑپھ کے تو نکلا پڑے ہے سینے سے یہ گھر اجاڑ نہ اے گھر بسے پکڑ ٹک دھیر شب فراق میں جاناں کی میں رہا جیتا کہ سخت جان ہے مجھ کو حجاب دامن گیر لب اس کے دیکھو تو ہے ظلم و خوں خوری کی دلیل سیہ مسی پہ نہیں سرخ پان کی ...

    مزید پڑھیے

    خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئی

    خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئی صبا بھی چل کے واں اے بلبلو پھولوں کو جھاڑ آئی شب بیمار یا کالی بلا یا رات کالی ہے قیامت آئی یا چھاتی پہ یہ ہجراں پہاڑ آئی جو آیا یار تو تو ہو چلا غش اے دوانے دل اسی دم تجھ کو مرنا تھا بتا کیا تجھ کو دہاڑ آئی مثل ہے بر محل اے اظفریؔ جو کہ گیا ...

    مزید پڑھیے

    نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے

    نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے کہ فوارہ خوں کا اچھلنے لگا ہے ڈبا دل کا گھر آنکھ تک آن پہنچا اب آنسو کا نالا ابلنے لگا ہے یہ سیب آنب شفتالو نارنگی کمرکھہ ترے باغ کا میوہ پلنے لگا ہے تمہاری میاں دیکھ یہ پھل پھلاری مرا طفل دل تو مچلنے لگا ہے کھجوریں سموسے تلے کچھ دلا دو اجی! جی مرا ...

    مزید پڑھیے

    اس کی صورت کو دیکھ کر بھولے

    اس کی صورت کو دیکھ کر بھولے ہائے ہم بھولے سر بسر بھولے منہ کا میٹھا تھا پیٹ کا کھوٹا جھوٹی میٹھی سی بات پر بھولے دیکھو اس میری یاد کو اور وہ مجھ پہ کرتا نہیں نظر بھولے اس کے عشاق ہو گئے وحشی سب یہ خانہ خراب گھر بھولے جب فراموش و یاد بھی کھیلے ایک ادھر ہم تم اک ادھر بھولے ہم ...

    مزید پڑھیے

    جان آ بر میں کہ پھر کچھ غم و وسواس نہیں

    جان آ بر میں کہ پھر کچھ غم و وسواس نہیں تو نہیں پاس تو پھر کچھ بھی مرے پاس نہیں تو جلاوے تو جیوں تو ہی جو مارے تو مروں تجھ سوا مجھ کو تو دارین میں کچھ آس نہیں نام لینے سے ترا میں ہوں معطر ہوتا گل جنت میں بھی سنتے ہیں کہ یہ باس نہیں یارو ہے اظفریؔ اردو کی زباں کا وارث اہل دہلی ہے وہ ...

    مزید پڑھیے

    دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑے

    دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑے پژمردہ، دل فسردہ در اوپر ڈھلے پڑے چکی چلی ہے چرخ کی داناؤ دیکھ لو دانے بہت ہیں اس میں تو ایسے ڈلے پڑے اوہو جی دے ہی ڈالو نکال ایسی بھوکھ میں تم کن تو ہیں سموسے بہت سے تلے پڑے جب گر پڑوں ہوں پاؤں پہ کہتے ہو منہ کو پھیر تم چھوڑ سب کو پند ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیا

    تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیا خوشی ہیں منت جاں سے تو بے نیاز کیا کہاں کی عقل کدھر کے حواس کیسا ہوش خرد کے قصر پہ تو نے تو ترک ناز کیا ہمارے کلبۂ احزاں میں کر قدم رنجہ نہال ہم کو تو اے سرو سرفراز کیا کیا تھا تیغۂ ابرو نے مختصر قصہ پہ تیری کاکل مشکیں نے پھر دراز کیا دل اور ...

    مزید پڑھیے

    جبکہ غصے کے بیچ آتے ہو

    جبکہ غصے کے بیچ آتے ہو لاکھ لاکھ ایک کی سناتے ہو کیسے ہر کھائے سے بنے پیارے بات کرتے ہی کاٹ کھاتے ہو اڑتی چڑیا کو ہم پرکھتے ہیں کسے باتوں میں تم اڑاتے ہو کہو مجھ سے بھی چل سکوگے کیا بیٹھو جی باتیں کیا بناتے ہو جس نہ تس پر نہ دیکھ دہ پڑنا بھلے متوالے مدھ کے ماتے ہو جب میں ...

    مزید پڑھیے

    دوستی میں تری بس ہم نے بہت دکھ جھیلے

    دوستی میں تری بس ہم نے بہت دکھ جھیلے کون نت اٹھ کے مری جان یہ پاپڑ بیلے چولی مسکی ہے کھلے بند گریباں یہ پھٹا کون سی جائے سے بن آئے میاں البیلے میل تیرے کا کوئی ہم کو سجیلا نہ ملا دیکھ ڈالے ہیں ہر اک شہر کے میلے ٹھیلے ظلم کی رہتی ہے مجھ پر جو یہ لے لے دے دے کائنات اپنی مرے پاس ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4