Mirza Azfari

مرزا اظفری

مرزا اظفری کی غزل

    سوز شمع ہجر سے شب جل گئے

    سوز شمع ہجر سے شب جل گئے ڈھلتے ڈھلتے آنسو ہم خود ڈھل گئے کل کا وعدہ کیا رقیبوں سے کیا کرتے آج آپس میں کچھ کل کل گئے وہ اٹھا کر یک قدم آیا نہ گاہ ہم قدم ساں اس کے سر کے بل گئے کب چھپی چھب تختی اور وہ چال ڈھال گو کہ منہ پر کر کے تم اوجھل گئے شرط تھی مانوں گا جو مانگو گے تم نام بوسہ ...

    مزید پڑھیے

    جب کہ زلف اس کی گلے کھا بل پڑی

    جب کہ زلف اس کی گلے کھا بل پڑی لشکر عشاق میں ہلچل پڑی چتونوں نیچے کسے آنکھ آپ کی تکتی ہے پلکوں کے یوں اوجھل پڑی آہ کالی رات ہجراں کی پھنسی کرتی ہے کاکل ہی میں کل کل پڑی کل جو مدح و ذم تھی سانچ اور جھوٹ کی وہ پھبی ہم پر یہ تم پر ڈھل پڑی شعلہ خوئی سوچ تیری آج تک پکتی ہے چھاتی مری ...

    مزید پڑھیے

    تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑے

    تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑے ہم دست رشک دھوپ میں اپنے ملے کھڑے ہم دیکھ تم کو دوڑے کہ مل لیں گلے کھڑے تم بھول ہم کو رہ گئے جانی بھلے کھڑے بیٹھو جی مل کے مہندی دکھاؤ اٹھا نہ ہاتھ ہاتھوں سے ہم تمہارے بہت ہیں جلے کھڑے ہے ہر نفس کے ساتھ ہوائی و پھلجھڑی یہ نخل آہ زور ہیں پھولے ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں چھوڑ کیدھر سدھارے پیارے

    ہمیں چھوڑ کیدھر سدھارے پیارے ہیں مشتاق دیدے تمہارے پیارے ان آنکھوں کو بادام و نرگس سے نسبت ادھر ٹک تو دیکھو ہمارے پیارے یہ سرو سہی اور شمشاد سارے تمہارے قد اوپر سے وارے پیارے یہ خوبان ہندی و چین و چگل بھی تصدق گئے تجھ پہ آرے پیارے تجھے ٹکٹکی باندھ سب تک رہے ہیں فلک تک بھی بن ...

    مزید پڑھیے

    شتابی اپنے دیوانے کو کر بند

    شتابی اپنے دیوانے کو کر بند مسلسل زلف سے کر یا نظر بند ترا شیدا نہ ٹھہرا جاں سا اک دم گیا لے کوٹ میں لوہے کے کر بند جو تجھ پر اور کو ترجیح دے دیکھ بس اس اندھے کی آنکھیں ہیں مگر بند تڑپتا بے قراری آہ و زاری ہوئیں یہ حالتیں کیوں کر سطر بند ہے شعلہ آگ کا ہر آہ کے ساتھ یہ دل ہے یا ہے ...

    مزید پڑھیے

    جی میں کیا کیا مری اماہا تھا

    جی میں کیا کیا مری اماہا تھا پر ہوا وہ جو حق کا چاہا تھا نبھی جب تک کہ ہم نباہ سکے آپ نے ہم کو کب نباہا تھا لقے دو چار ساتھ جاتے تھے کیسا کل رات ہی ہی ہاہا تھا چکی راہا تھا کیا بلا یہ رقیب چکی سا منہ تو اس کا راہا تھا کوچے تیرے میں رات کو جو گئے بھولے ہم واں جہاں دوراہا تھا تم ...

    مزید پڑھیے

    آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلے

    آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلے جان صاحب! بن تمہارے کھا کے غم ہم مر چلے سجدے دے ناگھسنیاں کرتے ہیں تم سنتے نہیں جو نہ کرنی تھی سماجت وہ بھی کر اکثر چلے آدمی سے بت کہائے اب خدائی کا ہے عزم ٹک کرو انصاف اپنی حد سے تم باہر چلے دیکھ لیویں گے گزارے کے تئیں اب اور جا دیکھا بھاری ...

    مزید پڑھیے

    تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سے

    تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سے پرائی پچ پہ لڑ جاتا ہے مجھ سے یہ کیا کج کاویاں اور ٹیڑھیاں ہیں کہ تپ تپ کو جھگڑ جاتا ہے مجھ سے ہمیشہ ماش کا آٹا سا کیوں تو ذری بھر میں اکڑ جاتا ہے مجھ سے برا ہے عشق کا آزار یارو یہ اکثر وقت اڑ جاتا ہے مجھ سے طبابت میں مسیحا ہوں ولیکن مرض یہ تو چپڑ ...

    مزید پڑھیے

    ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کر

    ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کر در سے ہمیں درکار نا جانی یہ نادانی نہ کر اک دل تھا جو تجھ کو دیا ہے اور دل جو اور لے ہم چاہیں تجھ چھٹ اور کو یہ بات دیوانی نہ کر عرش الہ العالمیں جائے ادب ہے کھول جھڑ ہے خانۂ دل غرق پر دیکھ اشک طغیانی نہ کر ہیں جھونپڑیاں ہمسائے میں مت ...

    مزید پڑھیے

    سوچ میں تیرے سنا رات جو کھٹکا پٹکا

    سوچ میں تیرے سنا رات جو کھٹکا پٹکا سر کو تکیے سے اٹھا پٹی پہ دے دے پٹکا تو نے گر کنگھی جو کاکل کو پکڑ کر جھٹکا دل پڑا پھرتا ہے سر مارتا بھولا بھٹکا لخت دل آ سر مژگاں پہ لٹکتے ہیں پڑے تیری الفت نے بھلا سانگ دکھایا نٹ کا جب نہ تب بوسے پہ ہٹتے ہو کہ دوں گا نہ کبھی مان کر یہ نہ مری جان ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4