سوز شمع ہجر سے شب جل گئے
سوز شمع ہجر سے شب جل گئے ڈھلتے ڈھلتے آنسو ہم خود ڈھل گئے کل کا وعدہ کیا رقیبوں سے کیا کرتے آج آپس میں کچھ کل کل گئے وہ اٹھا کر یک قدم آیا نہ گاہ ہم قدم ساں اس کے سر کے بل گئے کب چھپی چھب تختی اور وہ چال ڈھال گو کہ منہ پر کر کے تم اوجھل گئے شرط تھی مانوں گا جو مانگو گے تم نام بوسہ ...