Mirza Azfari

مرزا اظفری

مرزا اظفری کی غزل

    کہا کس نے کہ تم یہ وو نہ بولو

    کہا کس نے کہ تم یہ وو نہ بولو میں جاؤں اور نہیں جی دو نہ بولو مرا گل رو بنا ہے عشق و بو کو ہو عاشق یا نہ ہو بولو نہ بولو نہ دن دکھلاوے حق جانے کی راتیں نہیں کا چوچلا بھولو نہ بولو کہیں جو نیک و بد تم بے دلوں کو در اشک اپنے جب رولو نہ بولو سنو شعر اظفریؔ کا اہل مدراس تم اردو بیچ اسے ...

    مزید پڑھیے

    غبار دل میں بھرا کرکری سلام علیک (ردیف .. ')

    غبار دل میں بھرا کرکری سلام علیک ہے کس کے کام کی یہ ظاہری سلام علیک کریں نہ سیدھی نگہ دوسری سلام علیک ہے اب کے یاروں کی یہ جھرجھری سلام علیک تلون ایسا ان ابنائے روزگار میں ہے کہ صبح ملیے تو ہے چرپری سلام علیک مبادا بات میں بوئے طمع اگر پاویں پھر ان کی آنکھوں سے تیری گری سلام ...

    مزید پڑھیے

    یہ دل وہ ہے کہ غموں سے جسے فراغ نہیں

    یہ دل وہ ہے کہ غموں سے جسے فراغ نہیں مثال لالہ سے کیا دوں کچھ ایک داغ نہیں گلی میں تیری ہی دل بر سے گر پڑا دلبر میں ڈھونڈوں اور کہاں جا کہیں سراغ نہیں ہے داغ عشق سے روشن اور آہ سرد سے سرد ہمارے دل کا تو خس خانہ بے چراغ نہیں پڑا جہاں ترا نقش قدم مرے گل رو وہ گل زمیں ہے کہاں جو کہ ...

    مزید پڑھیے

    ایک برچھی سے مار جاتے ہو

    ایک برچھی سے مار جاتے ہو در پر آ جب پکار جاتے ہو ہم سے بدتے ہو شرط پھر دیکھو بار بار ہار ہار جاتے ہو اسی رستے سے دیکھتا ہوں میں جب نہ تب ہو دو چار جاتے ہو بھلا جاتے تو ہو کھڑے ہی کھڑے ہم سے ہو ہمکنار جاتے ہو یوں چڑھا جوتا کس کمر ہو چلے جب سے گنگا کے پار جاتے ہو یاد میں کس کی غن ...

    مزید پڑھیے

    بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہوا

    بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہوا کچھ آج بولتا ہے وہ ہم سے رکا ہوا جو چاہتا ہے دل کو مرے دل دہی کرے سودا یہ ہے قدیم سے یوں ہی چکا ہوا اوسوں گئی ہے پیاس کہیں دیدۂ نمیں بجھتا ہے آنسوؤں سے کہاں دل پھنکا ہوا ایوب صابر اور وو کنعاں کے پیر سے میرے سے زور و شور کا صبر و بکا ہوا ان ...

    مزید پڑھیے

    بارک اللہ میں ترے حسن کی کیا بات کہوں

    بارک اللہ میں ترے حسن کی کیا بات کہوں سج کہوں دھج کہوں چھب تختی کہوں گات کہوں رخ و زلف اس کے شب تار میں دیکھے باہم ہوں اچنبھے میں اسے دن کہوں یا رات کہوں کی قیامت ترے قامت نے تو گلشن اوپر پنکھڑی ایک طرف پھول کہوں پات کہوں طاق ابرو کے نظارے کے تھے خواہاں سو ملا اور کیا حاجت اب اے ...

    مزید پڑھیے

    ڈھولکی دھم دھمی خنجری بھی بجانی جانی

    ڈھولکی دھم دھمی خنجری بھی بجانی جانی تان کی جان مگر تم نے نہ جانی جانی ہل گئے مل گئے انجانوں سے جوں جان پہچان پر مری قدر ذری تم نہ پہچانی جانی لگ چلے جو کہ رقیبوں نے لگایا تم کو سانچی اور جھوٹی کوئی بات نہ چھانی جانی جو کہا میں نے نہ تم نے کبھی دھر کان سنا بات کیا ایسی مری تم نے ...

    مزید پڑھیے

    سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوں

    سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوں کہیں ہیں لوگ دیوانے کہ دیوانہ ہوں روتا ہوں بجھائے اشک یہ خوں کے جو فوارے اچھلتے ہیں مژہ سے یار کے لے نشتر آنکھوں میں چبھوتا ہوں مدد اے خضر گریہ غرق کریو ناؤ دل آج ہی یہ ہے ڈبوانے والا میں اسے پہلے ڈبوتا ہوں بت سنگین دل کی دیکھ تصویر ...

    مزید پڑھیے

    تجھ میں جس دم دھیان جاتا ہے

    تجھ میں جس دم دھیان جاتا ہے ہوش آیا اس آن جاتا ہے دل مرا گم ہوا صنم اللہ تجھ پہ میرا گمان جانا ہے تیرے مژگاں کی کیا کروں تعریف تیر یہ بے کمان جاتا ہے ہائے ظالم ہوں نیم جاں ٹک دیکھ ہاتھ سے اک جوان جاتا ہے سج مرے شوخ کی ذرا دیکھو جیسے بانکا پٹھان جاتا ہے

    مزید پڑھیے

    غیروں کے ساتھ گاتے جاتے ہو

    غیروں کے ساتھ گاتے جاتے ہو چٹکیوں میں ہمیں اڑاتے ہو کون استاد مل گیا کامل کس سے ضربیں یہ سیکھ آتے ہو نقش کس کا اپر اٹھا منہ پر اب تو نقشہ نیا بٹھاتے ہو کبھو سو رہتے ہو دوپٹہ تان کبھی اک تان مار جاتے ہو کبھو کرتے ہو جھانجھ آ ہم سے کبھی جھانجھ اور دف بجاتے ہو کبھو لڑنے کا تار ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4