Mirza Altaf Husain Alim Lucknowi

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی کی غزل

    کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا

    کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا اچھا ہوا جو دل کسی مشکل میں رہ گیا کیا پوچھتے ہو ایسے مسافر کی سرگزشت جس کو کہ دل بھی چھوڑ کے منزل میں رہ گیا نکلا تھا بن سنور کے بہت چودھویں کا چاند پھر بھی وہ تیرے رخ کے مقابل میں رہ گیا قاتل نے تیغ میان میں کچھ سوچ کر رکھی تھوڑا سا جب کہ دم تن ...

    مزید پڑھیے

    جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھا

    جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھا وہ بھی تھا وقت جب کہ غم دو جہاں نہ تھا کوئی بھی لطف زیست تہہ آسماں نہ تھا دنیا مری خراب تھی تو مہرباں نہ تھا سنتا یہ کون ضبط پہ قابو نہیں ہے اب اچھا ہوا جو کوئی مرا راز داں نہ تھا دیوانگی نے بات بنا دی کہ اس سے میں ضد کر رہا ہوں اب کہ یہ میرا بیاں ...

    مزید پڑھیے

    سر و گردن کی جدائی دیکھو

    سر و گردن کی جدائی دیکھو تیغ قاتل کی صفائی دیکھو تیغ لچکا کے اٹھائی دیکھو نہ مڑک جائے کلائی دیکھو مجھ سے کہتا ہے لہو مل کے مرا یہ مرے دست حنائی دیکھو محفل یار تلک پہنچایا میری قسمت کی رسائی دیکھو ٹوٹ جائے نہ ہماری توبہ پھر گھٹا چرخ پہ چھائی دیکھو میں کہاں اور کہاں رفعت ...

    مزید پڑھیے

    ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوست

    ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوست آ رہی ہے آج کی منزل سے مجھ کو بوئے دوست آگے آگے حسرتیں اور پیچھے پیچھے میں چلا اس طرح گھر سے نکل کر جا رہا ہوں سوئے دوست پہلے تو دل نے جگر کی جان ناقدری سے لی ڈھونڈھتا پھرتا ہے عالم بھر میں اب پہلوئے دوست واہ ری قسمت کہ گردوں پر سحر ہونے ...

    مزید پڑھیے

    ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونا

    ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونا اب ترے ہاتھ ہے مشکل مری آساں ہونا تھا جو مقسوم میں شرمندۂ احساں ہونا غیر کے ہاتھ رہا دفن کا ساماں ہونا حسن کا عشق کی وادی میں نمایاں ہونا رمز تھا دن کو سر طور چراغاں ہونا لذت درد جراحت تو مرے دل سے نہ پوچھ پہلوئے زخم میں لازم تھا نمکداں ...

    مزید پڑھیے

    نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئے

    نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئے جی میں آتا ہے کہ اب قطرہ کو دریا کیجئے بے خبر بن جائیے یا عہد پورا کیجئے جس طرح سے آپ کا جی چاہے اچھا کیجئے عیسی دوراں سہی لیکن کوئی شاہد بھی ہو ہم ابھی تو جی اٹھیں گے آپ اشارا کیجئے ہو چکا ہونا تھا جو کچھ جائیے بس جائیے مرنے والے کو نہ اب للہ ...

    مزید پڑھیے

    دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کر

    دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کر رحمت کی مجھ پہ ایک نظر کر سکے تو کر اے دل تو ایسی آہ اگر کر سکے تو کر دنیا ادھر کی آج ادھر کر سکے تو کر اے آہ برق ریز تجھے روکتا ہے کون اس بے خبر کو میری خبر کر سکے تو کر مشہور ہے کہ عشق کی راہیں ہیں خوفناک ہمت سے پہلے پوچھ سفر کر سکے تو کر عارض ...

    مزید پڑھیے

    میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیا

    میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیا انسانیت کو دیکھ کے انساں کیا گیا اب میرے امتحان کا ساماں کیا گیا یعنی سپرد عالم امکاں کیا گیا محفوظ میں نے رکھے جنوں کے تبرکات دامن اگر پھٹا تو گریباں کیا گیا طے کر کے ارتقا کے منازل کو شوق سے پہنچا جب اپنے حد پہ تو انساں کیا گیا سچ پوچھئے تو کیا ...

    مزید پڑھیے

    اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھا

    اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھا مدت سے کش مکش میں دل ناصبور تھا دنیا کا ہوشیار بڑا ذی شعور تھا جب تک مرے کہے میں دل ناصبور تھا میرا قصور میری نظر کا قصور تھا وہ جس قدر قریب تھا اتنا ہی دور تھا اچھا ہوا جو دل کی تڑپ اور بڑھ گئی جانا بھی ان کی بزم میں مجھ کو ضرور تھا اس بے نشاں کا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2