کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا
کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا اچھا ہوا جو دل کسی مشکل میں رہ گیا کیا پوچھتے ہو ایسے مسافر کی سرگزشت جس کو کہ دل بھی چھوڑ کے منزل میں رہ گیا نکلا تھا بن سنور کے بہت چودھویں کا چاند پھر بھی وہ تیرے رخ کے مقابل میں رہ گیا قاتل نے تیغ میان میں کچھ سوچ کر رکھی تھوڑا سا جب کہ دم تن ...