Mirza Altaf Husain Alim Lucknowi

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی کی غزل

    آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری

    آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری بن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماری یہ عشق کے ہاتھوں ہوئی توقیر ہماری بازاروں میں بکنے لگی تصویر ہماری اس طرح کے دن رات دکھاتی ہے کرشمے تقدیر پس پردۂ تدبیر ہماری جلدی نہ کرو دھار ہے خنجر پہ ابھی تو ہو لینے دو ثابت کوئی تقصیر ہماری کچھ خون کی ...

    مزید پڑھیے

    آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریں

    آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریں اور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریں حشر میں اس کی نظر ہو گئی نیچی ہم سے ہو سکے جن سے وہ اب شکوۂ جلاد کریں کچھ تو فرمائیے انصاف اگر ہے کوئی چیز آپ کو دل سے بھلائیں تو کسے یاد کریں دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں سینے میں ایک مظلوم کی اب آپ کچھ امداد ...

    مزید پڑھیے

    نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا

    نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا مرے کہنے میں کسی دن جو مرا دل ہوگا جب نمایاں وہ سوار رہ منزل ہوگا نہ تو میں آپ میں ہوں گا نہ مرا دل ہوگا آدھی رات آ گئی بس بس دل بے تاب سنبھل ہم سمجھتے ہیں جو اس کرب کا حاصل ہوگا رخصت اے وحشت تنہائی و غربت رخصت خوف ہی کیا ہے جو ہم راہ مرے دل ...

    مزید پڑھیے

    گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں

    گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں جب کہ طاقت تھی کبھی آپ کے بیماروں میں لے کے ہم دل گئے کہتے یہ جفا کاروں میں کون لیتا ہے اسے اتنے خریداروں میں دی رہائی مجھے صیاد نے اے وائے نصیب دخل جب فصل خزاں کا ہوا گلزاروں میں میرے مرنے کا ہوا رنج ہر اک قیدی کو کہ ہے کہرام بپا تیرے ...

    مزید پڑھیے

    لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ

    لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ آئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگ ہم نے جھیلی ہیں زمانے میں کشش کی کڑیاں ہم سے پوچھے کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا رنگ ذکر تدبیر عبث فکر رہائی بے سود جب کہ مٹتا نظر آنے لگا تقدیر کا رنگ ہم بھی آئے ہیں کفن باندھ کے سر سے قاتل دیکھنا ہے تری چلتی ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی

    شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی ہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہی بیٹھنے والے نہ بیٹھیں گے کبھی محفل میں او ستم گر ترے دل میں مرا گھر ہو تو سہی دل بے تاب کا ملنا نہیں مشکل لیکن ہاتھ بھر کا کسی سینے میں جگر ہو تو سہی ہم یہ سمجھیں گے کہ دل تھا ہی نہیں سینے میں ان کی دزدیدہ ...

    مزید پڑھیے

    کسی حسرت زدہ نے خود کشی منظور کی دل سے

    کسی حسرت زدہ نے خود کشی منظور کی دل سے صدا لبیک کی سن کر زمین کوئے قاتل سے خدا کے واسطے دم بھر تو اے باد اجل تھم جا کہ لے لوں کچھ ہوا میں دامن شمشیر قاتل سے ٹھہرنا او دل بے تاب پھر تو بھی تو سینے میں نکل آئے تڑپ کر موج جب آغوش ساحل سے زمیں سے آسماں تک میری بیتابی کا چرچا ہے سبق ...

    مزید پڑھیے

    میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیا

    میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیا میرے بھی دل میں بڑا ارماں ستم گر رہ گیا کیا فقط کوچہ میں تیرے میرا بستر رہ گیا بلکہ مجھ سے چھوٹ کر دل ہی کہیں پر رہ گیا میکشوں کے دور میں بیٹھے تھے ہم بھی با نصیب اب تو خالی ہاتھ میں ساقی کے ساغر رہ گیا میرے کس ارماں نے میرے قتل سے روکا تجھے جو ...

    مزید پڑھیے

    داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلے

    داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلے موت آتی جو کہیں دل کو جگر سے پہلے تصفیہ کرتے نہ ہنگام سحر سے پہلے پوچھ لیتے کسی مایوس نظر سے پہلے میرا مرنا تمہیں ہو جائے گا خود ہی معلوم دل تڑپ اٹھے گا سینے میں خبر سے پہلے تم تو کہتے تھے کہ میں درد کا قائل ہی نہیں کون چیخا مرے نالوں کے اثر سے ...

    مزید پڑھیے

    الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلا

    الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلا قیس مانند سحر چاک گریباں نکلا بن گئے خوب ہدف اس ستم ایجاد کے آپ لیجئے حضرت دل آج تو ارماں نکلا نہ ہوئی طاقت نظارہ کسی عاشق کو شعلۂ حسن حجاب رخ جاناں نکلا آ گئی صدمۂ فرقت سے اجل عاشق کی ہجر محبوب فراق جسد و جاں نکلا روح نے خانۂ تن چھوڑ دیا آخر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2