نظم اتحاد
فصل بہار آئی مگر ہم ہیں اور غم ہر سمت سے ہیں گھیرے ہوئے صدمہ و الم آئی نہ اف زباں پہ ستم پر ہوئے ستم کیا امتحاں کے واسطے ٹھہرے ہیں صرف ہم جب اپنی قوتوں پہ بھروسا نہیں رہا بہتر ہے پھر جہاں سے اٹھا لے ہمیں خدا اس عمر چند روزہ میں کی لاکھ جستجو چھانی ہے ہم نے خاک زمانے میں کو بہ کو شکوہ ...