Mirza Altaf Husain Alim Lucknowi

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی کی نظم

    نظم اتحاد

    فصل بہار آئی مگر ہم ہیں اور غم ہر سمت سے ہیں گھیرے ہوئے صدمہ و الم آئی نہ اف زباں پہ ستم پر ہوئے ستم کیا امتحاں کے واسطے ٹھہرے ہیں صرف ہم جب اپنی قوتوں پہ بھروسا نہیں رہا بہتر ہے پھر جہاں سے اٹھا لے ہمیں خدا اس عمر چند روزہ میں کی لاکھ جستجو چھانی ہے ہم نے خاک زمانے میں کو بہ کو شکوہ ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کی راتیں

    ہجر کی راتیں کالی کالی اس پر یاد کسی کی جاری ایسے گہرے سناٹے میں کس سے کہیں ہم غم کی کہانی دنیا ساری سوتی ہے تارے گننا بے چینی میں آہیں بھرنا بیتابی میں آہ ہماری سونے والو اس حالت میں لاچاری میں رات بسر یوں ہوتی ہے کشتۂ غم کی اب تربت پر حسرت روتی ہے حسرت پر ایک اداسی کا عالم ...

    مزید پڑھیے