Minu Bakshi

مینو بخشی

مینو بخشی کی غزل

    کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بے خودی کا رنگ

    کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بے خودی کا رنگ دونوں کا امتزاج ہے یہ زندگی کا رنگ پیش نگاہ میرے ہزاروں ہی رنگ تھے دل نے کیا پسند مگر آپ ہی کا رنگ یہ ہے فریب چشم کہ یہ دل کا واہمہ ہر گل میں دیکھتی ہوں گل‌ کاغذی کا رنگ اس کو بھلائے گرچہ زمانہ گزر گیا آتا ہے یاد آج بھی مجھ کو اسی کا ...

    مزید پڑھیے

    رہ عشق و وفا ہے اور میں ہوں

    رہ عشق و وفا ہے اور میں ہوں یہ تیرا نقش پا ہے اور میں ہوں نگاہوں میں ہے زنجیر محبت تری زلف دوتا ہے اور میں ہوں شب آخر فضائے دل میں پھیلی خموشی کی ردا ہے اور میں ہوں یہی ہے مختصر سی اپنی دنیا یہ میرا آئنہ ہے اور میں ہوں وہی ہے ہجر کی رت کی اداسی وہی قاتل ہوا ہے اور میں ہوں نظر ...

    مزید پڑھیے

    آئیے آج آپ سے کچھ راز کی باتیں کریں

    آئیے آج آپ سے کچھ راز کی باتیں کریں اس حسیں اس کی نگاہ ناز کی باتیں کریں وہ کہ جس نے مسکرا کے کہہ دیا تھا حال دل اس تبسم اس حسیں انداز کی باتیں کریں تھا وہ بچپن یا جوانی جب سنا تھا نام عشق آج پھر ان اجنبی الفاظ کی باتیں کریں یاد ہے اب تک ہمیں سہما سا وہ اظہار عشق بند آنکھیں ...

    مزید پڑھیے

    ہوا دل کا حال ابتر تجھے یاد کرتے کرتے

    ہوا دل کا حال ابتر تجھے یاد کرتے کرتے مری جاں نکل نہ جائے کہیں آہ بھرتے بھرتے مری آرزوئے دل کو نئی زندگی ملی ہے کہ ابھی ابھی بچے ہیں مرے خواب مرتے مرتے تجھے بھولنے کی خاطر بھی ہے ایک عمر لازم کٹی ایک عمر میری تجھے یاد کرتے کرتے ہوئی موت جب مقابل مجھے تم ہی یاد آئے رہے تم ہی جان ...

    مزید پڑھیے

    تیرے ہی غم سے میری طبیعت بہل گئی

    تیرے ہی غم سے میری طبیعت بہل گئی تو یاد آ گیا تو مری جاں سنبھل گئی اب یاد ہے کہاں مجھے ماضی کی داستاں میں تجھ سے کیا ملی مری دنیا بدل گئی جو میرے گیسوؤں کا گرفتار تو ہوا میں بھی تو تیرے عشق کے سانچے میں ڈھل گئی روشن سی ہو گئی ہے مرے دل کی کائنات جو تیری آرزؤں کی اک شمع جل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2