کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بے خودی کا رنگ
کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بے خودی کا رنگ دونوں کا امتزاج ہے یہ زندگی کا رنگ پیش نگاہ میرے ہزاروں ہی رنگ تھے دل نے کیا پسند مگر آپ ہی کا رنگ یہ ہے فریب چشم کہ یہ دل کا واہمہ ہر گل میں دیکھتی ہوں گل کاغذی کا رنگ اس کو بھلائے گرچہ زمانہ گزر گیا آتا ہے یاد آج بھی مجھ کو اسی کا ...