Minu Bakshi

مینو بخشی

مینو بخشی کی غزل

    اٹھا شعلہ سا قلب ناتواں سے

    اٹھا شعلہ سا قلب ناتواں سے ہوا آئی کبھی جو شہر جاں سے ہماری سمت بھی چشم عنایت تری خاطر بنے ہیں نیم جاں سے شکایت اس سے ہے جس پر فدا ہوں مجھے شکوہ نہیں سارے جہاں سے نگاہوں سے ادا کرتے ہو مطلب کہاں کہتے ہو کچھ اپنی زباں سے تمہیں تھے یا وہ پرچھائیں تمہاری ابھی بجلی سی جو گزری یہاں ...

    مزید پڑھیے

    آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے

    آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے اب ...

    مزید پڑھیے

    انداز وہ نہیں ہے اب وہ ادا نہیں ہے

    انداز وہ نہیں ہے اب وہ ادا نہیں ہے پہلا سا بانکپن تو تجھ میں رہا نہیں ہے کیوں سانس گھٹ رہی ہے کیوں مضطرب ہے دل بھی شاید کھلی فضا میں تازہ ہوا نہیں ہے تنقید کر رہا ہے کچھ اس ادا سے مجھ پر جیسے کہ اس جہاں میں میرا خدا نہیں ہے ہے عشق نام میرا دل ہے مقام میرا اس کے سوا جہاں میں میرا ...

    مزید پڑھیے

    تیرا ارماں تری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں

    تیرا ارماں تری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں دل میں اب تیری محبت کے سوا کچھ بھی نہیں زندگی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے دور تک سایۂ ظلمت کے سوا کچھ بھی نہیں ہر طرف پھول حقیقت کے کھلے ہیں لیکن آنکھ میں خواب حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں یوں ترے غم میں ہوں پامال کہ لگتا ہے مجھے زندگی جیسے ...

    مزید پڑھیے

    رات خود پر رو رہی ہے

    رات خود پر رو رہی ہے صبح شاید ہو رہی ہے تو اسے آ کر جگا جا حسرت دل سو رہی ہے کس کی آمد ہے جو کب سے چاندنی گھر دھو رہی ہے تخم تنہائی محبت کشت دل میں بو رہی ہے بے سبب کب تھی اداسی وجہ بھی کچھ تو رہی ہے ان سے کہہ پائی کہاں میں بات دل میں جو رہی ہے جانے کیوں دل ہے پریشاں جانے کیا شے ...

    مزید پڑھیے

    آج تو دن بھر تری تصویر ہم دیکھا کئے

    آج تو دن بھر تری تصویر ہم دیکھا کئے یعنی اپنے خواب کی تعبیر ہم دیکھا کئے ہم نے دیکھا ہی نہیں آنکھیں اٹھا کر سمت‌ گل اپنے دل کا زخم دامن گیر ہم دیکھا کئے عشق اول کی شب دیجور میں اے زندگی زلف تیری یا کوئی زنجیر ہم دیکھا کئے آج ہم دیکھا کئے چشم ستم گر کو خجل آج اپنی آہ کی تاثیر ہم ...

    مزید پڑھیے

    بیٹھے بیٹھے جو طبیعت مری گھبرائی ہے

    بیٹھے بیٹھے جو طبیعت مری گھبرائی ہے اور شدت سے مجھے یاد تری آئی ہے اس سے بچھڑوں‌ گی تو زندہ نہیں رہ پاؤں گی میری مونس مری ہم راز یہ تنہائی ہے جستجو اب ہے مسرت کی نہ تو غم کی تلاش بے حسی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے ڈوب کر ان میں نہ ابھرا ہے نہ ابھرے گا کوئی جھیل سی آنکھوں میں ...

    مزید پڑھیے

    بت کی مانند نہ اپنے کو بنائے رکھنا

    بت کی مانند نہ اپنے کو بنائے رکھنا جس جگہ رہنا وہاں دھوم مچائے رکھنا خود کو دریا میں نہ قطروں سا ملائے رکھنا منفرد ہونے کا احساس دلائے رکھنا کام فرزانۂ دنیا کا نہیں اے ناصح پرچم عشق زمانے میں اٹھائے رکھنا چشم مخلوق ہے میزان رضائے مولا چشم‌ مخلوق میں خود کو نہ گرائے ...

    مزید پڑھیے

    تمہاری بے ادائی کے مزے آنے لگے مجھ کو

    تمہاری بے ادائی کے مزے آنے لگے مجھ کو جو میرے دشمن جاں تھے وہ سمجھانے لگے مجھ کو تری فرقت میں حالت ہو گئی ہے آج وہ میری یہ میرے چارہ گر زنجیر پہنانے لگے مجھ کو خدایا دیکھ کر ان کو مجھے تجھ پر یقیں آیا انہیں میں تو ترے جلوے نظر آنے لگے مجھ کو دیے اشکوں کے پلکوں کی منڈیروں پر ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    نگار‌ پیکر فردا میں ڈھل کے دیکھتے ہیں

    نگار‌ پیکر فردا میں ڈھل کے دیکھتے ہیں ہم اپنے وقت سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تمہاری آنکھ میں تیور غزل کے دیکھتے ہیں اسی لئے تمہیں پہلو بدل کے دیکھتے ہیں سنا ہے سرخ رو ہونے کا یہ طریقہ ہے سو تیرے عشق کی آتش میں جل کے دیکھتے ہیں ہمیں ہیں ایک جو لپٹے ہیں اپنے ماضی سے جہاں میں ورنہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2