Minu Bakshi

مینو بخشی

مینو بخشی کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    اٹھا شعلہ سا قلب ناتواں سے

    اٹھا شعلہ سا قلب ناتواں سے ہوا آئی کبھی جو شہر جاں سے ہماری سمت بھی چشم عنایت تری خاطر بنے ہیں نیم جاں سے شکایت اس سے ہے جس پر فدا ہوں مجھے شکوہ نہیں سارے جہاں سے نگاہوں سے ادا کرتے ہو مطلب کہاں کہتے ہو کچھ اپنی زباں سے تمہیں تھے یا وہ پرچھائیں تمہاری ابھی بجلی سی جو گزری یہاں ...

    مزید پڑھیے

    آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے

    آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے اب ...

    مزید پڑھیے

    انداز وہ نہیں ہے اب وہ ادا نہیں ہے

    انداز وہ نہیں ہے اب وہ ادا نہیں ہے پہلا سا بانکپن تو تجھ میں رہا نہیں ہے کیوں سانس گھٹ رہی ہے کیوں مضطرب ہے دل بھی شاید کھلی فضا میں تازہ ہوا نہیں ہے تنقید کر رہا ہے کچھ اس ادا سے مجھ پر جیسے کہ اس جہاں میں میرا خدا نہیں ہے ہے عشق نام میرا دل ہے مقام میرا اس کے سوا جہاں میں میرا ...

    مزید پڑھیے

    تیرا ارماں تری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں

    تیرا ارماں تری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں دل میں اب تیری محبت کے سوا کچھ بھی نہیں زندگی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے دور تک سایۂ ظلمت کے سوا کچھ بھی نہیں ہر طرف پھول حقیقت کے کھلے ہیں لیکن آنکھ میں خواب حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں یوں ترے غم میں ہوں پامال کہ لگتا ہے مجھے زندگی جیسے ...

    مزید پڑھیے

    رات خود پر رو رہی ہے

    رات خود پر رو رہی ہے صبح شاید ہو رہی ہے تو اسے آ کر جگا جا حسرت دل سو رہی ہے کس کی آمد ہے جو کب سے چاندنی گھر دھو رہی ہے تخم تنہائی محبت کشت دل میں بو رہی ہے بے سبب کب تھی اداسی وجہ بھی کچھ تو رہی ہے ان سے کہہ پائی کہاں میں بات دل میں جو رہی ہے جانے کیوں دل ہے پریشاں جانے کیا شے ...

    مزید پڑھیے

تمام