Meer Yaseen Ali khan

میر یٰسین علی خاں

میر یٰسین علی خاں کی غزل

    الٰہی دل کو میرے کچھ خوشی ہوتی تو اچھا تھا

    الٰہی دل کو میرے کچھ خوشی ہوتی تو اچھا تھا لبوں پر آہ کے بدلے ہنسی ہوتی تو اچھا تھا سیاہ دل ہیں اندھیروں میں تجھے ہم یاد کرتے ہیں خدایا ان گھروں میں روشنی ہوتی تو اچھا تھا وہ آئے ہیں ذرا ان سے ہم اپنا حال کہہ لیتے ہمارے درد دل میں کچھ کمی ہوتی تو اچھا تھا

    مزید پڑھیے

    ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جو دن بھر کی کمائی کھو دیتے ہیں

    ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جو دن بھر کی کمائی کھو دیتے ہیں پھر جھٹ پٹ کرتے تاروں کی چھاؤں میں بیٹھے رو دیتے ہیں روشن روشن حرفوں میں ہم دن بھر جو کچھ لکھ پاتے ہیں ظلمت کے کالے پانی سے رات کو وہ بھی دھو دیتے ہیں اب تو ہی ہمارے چارہ گر کر ان کا مداوا دنیا میں جو دن بھر تو پھول چنیں اور رات ...

    مزید پڑھیے

    میں تم کو پوجتا رہا جب تک خودی میں تھا (ردیف .. د)

    میں تم کو پوجتا رہا جب تک خودی میں تھا اپنا ملا سراغ مجھے بے خودی کے بعد کیا رسم احتیاط بھی دنیا سے اٹھ گئی یہ سوچنا پڑا مجھے تیری ہنسی کے بعد گھبرا کے مر نہ جائیے مرنے سے فائدہ اک اور زندگی بھی ہے اس زندگی کے بعد آئے ہیں اس جہاں میں تو جانا ضرور ہے کوئی کسی سے پہلے تو کوئی کسی ...

    مزید پڑھیے

    کہتے ہیں جس کو موت ہے وقفہ حیات کا (ردیف .. ہ)

    کہتے ہیں جس کو موت ہے وقفہ حیات کا دریائے زیست ایک ہے ساحل جگہ جگہ دیر و حرم سے دور ہے شاید ترا مقام یاں ورنہ ہر قدم پہ ہے منزل جگہ جگہ خوش رنگ و خوش نگاہ خوش اندام خوب رو پھیلے ہوئے ہیں شہر میں قاتل جگہ جگہ

    مزید پڑھیے

    بے گناہ قتل ہوتے جاتے ہیں (ردیف .. د)

    بے گناہ قتل ہوتے جاتے ہیں صبر کا امتحان ہے شاید مرنے والوں کو بھول جاتے ہیں جان ہے تو جہان ہے شاید وہ کبھی میرے دل میں رہتے ہیں یہ بھی ان کا مکان ہے شاید اپنی ہستی بھی یاں ہے کوئی چیز ایک وہم و گمان ہے شاید ہے جو ہر شے میں ہر جگہ موجود وہ خدا بے نشان ہے شاید شیخ حوروں پہ جان ...

    مزید پڑھیے