ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جو دن بھر کی کمائی کھو دیتے ہیں

ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جو دن بھر کی کمائی کھو دیتے ہیں
پھر جھٹ پٹ کرتے تاروں کی چھاؤں میں بیٹھے رو دیتے ہیں


روشن روشن حرفوں میں ہم دن بھر جو کچھ لکھ پاتے ہیں
ظلمت کے کالے پانی سے رات کو وہ بھی دھو دیتے ہیں


اب تو ہی ہمارے چارہ گر کر ان کا مداوا دنیا میں
جو دن بھر تو پھول چنیں اور رات کو کانٹے بو دیتے ہیں