میرا سفر قدم قدم
نکلا ہوں خود کو ڈھونڈنے اس کا مگر ہے مجھ کو غم راہ جنوں دراز ہے میرا سفر قدم قدم مجھ کو خبر نہیں کہ یاں کتنے لٹے ہیں کارواں کتنی گری ہیں بجلیاں کتنے جلے ہیں آشیاں چاک ہے پردۂ وجود پھر بھی کوئی مرا نہیں کون ہے جس کے واسطے حکم سزا جزا نہیں عالم آب و خاک میں میرا ظہور بھی حجاب حشر میں ...