Meer Naqi Ali Khan Saqib

میر نقی علی خاں ثاقب

میر نقی علی خاں ثاقب کی غزل

    خشک پتوں کی طرح شاخوں سے گر جاتے ہیں ہم

    خشک پتوں کی طرح شاخوں سے گر جاتے ہیں ہم وقت کی گرد سفر بن کے اڑے جاتے ہیں ہم جیسے صدیوں کی سیہ پوشی مقدر بن گئی روشنی کا نام آتے ہی پگھل جاتے ہیں ہم اس قدر روشن نہیں تھی آج سے پہلے غزل بھیگتے لفظوں کو شعلوں کی زباں دیتے ہیں ہم صبح ہوتی ہے تو جیسے اک حقیقت جان کر گم شدہ خوابوں کی ...

    مزید پڑھیے

    سحر انجان سی مغموم سا خواب وفا کیوں ہے

    سحر انجان سی مغموم سا خواب وفا کیوں ہے نہ جانے قربتوں کے نام سے یہ فاصلہ کیوں ہے اندھیرے زہر برسانے لگے ہیں زندگانی پر کسی کے پیار کا مہتاب ایسے میں خفا کیوں ہے ذرا جب رات ڈھلتی ہے تو خوابوں کے جھروکے سے حسیں مانوس شکلوں کا سویرا جھانکتا کیوں ہے بہار آئی فضا مہکی خوشی نے ہاتھ ...

    مزید پڑھیے

    ایک موہوم سی خوشی کی طرح

    ایک موہوم سی خوشی کی طرح تم ملے بھی تو اجنبی کی طرح تیرگی کے اداس جنگل میں ہم بھٹکتے ہیں روشنی کی طرح غم دوراں سنوار دوں تجھ کو اپنے گیتوں کی دل کشی کی طرح یاد جاناں اتر کے آئی ہے شب کے زینے سے چاندنی کی طرح مہرباں ہو کے ساتھ چلتی ہے زندگی درد زندگی کی طرح آرزو کا حسیں سویرا ...

    مزید پڑھیے

    بڑھتی جاتی ہے خیالوں کی تھکن آخر شب

    بڑھتی جاتی ہے خیالوں کی تھکن آخر شب ٹوٹنے لگتے ہیں یادوں کے بدن آخر شب ساری دنیا ہے سیاہی کے سمندر کی طرح چھین لی وقت نے ایک ایک کرن آخر شب روشنی بن کے دبے پاؤں چلا آتا ہے ان دریچوں سے ترا سانولا پن آخر شب تھک کے بیٹھی ہے کہیں دور مسافر کی طرح میرے خوابوں سے مری صبح چمن آخر ...

    مزید پڑھیے

    آگ زخموں کی جلا کر دیکھو

    آگ زخموں کی جلا کر دیکھو جی کو اک روگ لگا کر دیکھو کتنی معصوم ہے روداد حیات خود کو آسیب بنا کر دیکھو شکوۂ نیم نگاہی ہے غلط پھر تو چہرہ ہی ملا کر دیکھو کیا کہیں لفظ محبت ہے گراں دل کے اوراق اٹھا کر دیکھو کتنے چہرے ہیں نقاب آلودہ لو چراغوں کی بڑھا کر دیکھو اپنی بچھڑی ہوئی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2