Meer Naqi Ali Khan Saqib

میر نقی علی خاں ثاقب

میر نقی علی خاں ثاقب کی غزل

    یہ سانحہ تھا ملاقات اور باقی ہے

    یہ سانحہ تھا ملاقات اور باقی ہے ٹھہر بھی جاؤ کہ کچھ رات اور باقی ہے فسانۂ شب ہستی تو کہہ چکے لیکن یہ رنج ہے کہ کوئی بات اور باقی ہے اسی امید میں لو دے رہی ہے شمع حیات سلگ بھی جائے تو برسات اور باقی ہے فنا کے نام پہ لبیک کہہ چکے ورنہ وجود کشمکش ذات اور باقی ہے تو مجھ کو بھول بھی ...

    مزید پڑھیے

    جو جھٹلاتا رہا ہے زندگی کو

    جو جھٹلاتا رہا ہے زندگی کو ذرا پہچان لیں اس آدمی کو اجالے بانٹتی پھرتی ہے دنیا سیاہی سے الجھتی روشنی کو ازل سے گونجتا منظر ہے ہستی صدا دو جسم کی بے چہرگی کو نہ دیکھا تم نے سڑکوں سے گزرتے بکھرتی سانس لیتی زندگی کو نہیں مہلت کہ میں خورشید دیتا تری آنکھوں کی بجھتی روشنی کو جو ...

    مزید پڑھیے

    منزل نہ کوئی موڑ نہ رستا دکھائی دے

    منزل نہ کوئی موڑ نہ رستا دکھائی دے عالم تمام دھند میں لپٹا دکھائی دے قاتل دکھائی دے نہ مسیحا دکھائی دے ہر شخص اک فریب تماشا دکھائی دے ویسے تو زندگی ہے اجالوں کا شہر بھی دیکھو تو مقبروں کا اندھیرا دکھائی دے جاؤں ادھر تو ایک سمندر ہے بے کراں دیکھو ادھر تو پیاس کا صحرا دکھائی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی کھڑکی جو کھلی رہتی ہے

    کوئی کھڑکی جو کھلی رہتی ہے سامنے شکل وہی رہتی ہے میرے ہونٹوں پہ ہنسی رہتی ہے آگ پھولوں میں دبی رہتی ہے جیسے ہر چیز پگھل جائے گی دھوپ یوں سر پہ کھڑی رہتی ہے اب تو خوابوں کے بھی آئینے میں وقت کی دھول جمی رہتی ہے میری تنہائی کے دروازے پر جانے کیوں بھیڑ لگی رہتی ہے کتنی قاتل ہے ...

    مزید پڑھیے

    جلتے ہوئے کچھ سوچ کے اک پل کو رکا تھا

    جلتے ہوئے کچھ سوچ کے اک پل کو رکا تھا ایسے بھی وہ یادوں کو مری چھوڑ رہا تھا آنکھوں میں تھکن گرد مہ و سال جبیں پر اک شخص کہیں دور دھندلکوں میں ملا تھا اب کیوں ہے اداسی کا سماں حد نظر تک کل رات خیالوں میں کوئی جاگ رہا تھا کیوں مصلحتاً لوگ اسے بھول گئے ہیں انسان کی عظمت کو صلیبوں ...

    مزید پڑھیے

    کبھی بہار کبھی گل سبو ٹھہری

    کبھی بہار کبھی گل کبھی سبو ٹھہری وہ آنکھ جو کسی جنت کی آب جو ٹھہری رسوم درد نبھائیں کہ آپ کو چاہیں یہی تو شرط ملاقات دو بدو ٹھہری ہر ایک پل میں ہزاروں ٹھہر گئیں صدیاں نسیم صبح تمنا مگر نہ تو ٹھہری لبوں کی نرم لپیٹوں میں گھلتی گھلتی شفق کہیں لہو کہیں رنگینیٔ سبو ٹھہری در فراق ...

    مزید پڑھیے

    جدا ہے درد کا مفہوم لفظ خواب کے ساتھ

    جدا ہے درد کا مفہوم لفظ خواب کے ساتھ شعور ذات نکھرتا ہے انقلاب کے ساتھ نظر اٹھا کے تو دیکھو افق کے چہرے پر مری غزل کا تقدس ہے آفتاب کے ساتھ ازل سے دشت و بیاباں میں گھومتی ہے حیات کبھی نقاب سے ہٹ کر کبھی نقاب کے ساتھ شفق ہے یا تری آنکھوں کی موج بے خوابی جو گھل رہی ہے ہر اک قطرۂ ...

    مزید پڑھیے

    رات جب زخم کے آئینے سے ٹکراتی ہے

    رات جب زخم کے آئینے سے ٹکراتی ہے لو چراغوں کی شفق بن کے بکھر جاتی ہے گھر کا آنگن ہو کہ صحراؤں کا سناٹا ہو کوئی آواز تعاقب میں چلی آتی ہے کتنا حساس ہے یہ عالم تنہائی بھی پھول کھلتے ہیں تو زخموں سے مہک آتی ہے ہر نئی صبح تری یاد کا آنسو بن کر زندگی شام کی پلکوں سے ٹپک جاتی ہے آگ ...

    مزید پڑھیے

    یہ کن حدوں میں ہمارا دل غریب آیا

    یہ کن حدوں میں ہمارا دل غریب آیا سحر کی چاپ پہ خدشہ ہوا رقیب آیا تمام عمر میں ڈھونڈا کیا اجالوں کو نہ تیرا درد بھٹک کر مرے قریب آیا ہزار بار اسی راستے سے گزرا ہے مرا وجود جو اب کوچۂ صلیب آیا اسی کے ساتھ گزاری ہیں سینکڑوں گھڑیاں وہ ایک شخص جو مجھ تک بہت عجیب آیا

    مزید پڑھیے

    چراغ درد کبھی یوں بجھے بجھے تو نہ تھے

    چراغ درد کبھی یوں بجھے بجھے تو نہ تھے ہم اپنے آپ سے اتنے کھنچے کھنچے تو نہ تھے فسون چشمۂ سیل رواں کی عمر دراز ان آنسوؤں میں سمندر رکے رکے تو نہ تھے شب فراق ان آنکھوں میں کٹ گئی ہوگی ملے وہ کل بھی تھے لیکن تھکے تھکے تو نہ تھے وہ سانس لیتی ہوئی تشنگی وہ نہر فرات لبوں پہ پیاس کے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2