Meer Naqi Ali Khan Saqib

میر نقی علی خاں ثاقب

میر نقی علی خاں ثاقب کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    یہ سانحہ تھا ملاقات اور باقی ہے

    یہ سانحہ تھا ملاقات اور باقی ہے ٹھہر بھی جاؤ کہ کچھ رات اور باقی ہے فسانۂ شب ہستی تو کہہ چکے لیکن یہ رنج ہے کہ کوئی بات اور باقی ہے اسی امید میں لو دے رہی ہے شمع حیات سلگ بھی جائے تو برسات اور باقی ہے فنا کے نام پہ لبیک کہہ چکے ورنہ وجود کشمکش ذات اور باقی ہے تو مجھ کو بھول بھی ...

    مزید پڑھیے

    جو جھٹلاتا رہا ہے زندگی کو

    جو جھٹلاتا رہا ہے زندگی کو ذرا پہچان لیں اس آدمی کو اجالے بانٹتی پھرتی ہے دنیا سیاہی سے الجھتی روشنی کو ازل سے گونجتا منظر ہے ہستی صدا دو جسم کی بے چہرگی کو نہ دیکھا تم نے سڑکوں سے گزرتے بکھرتی سانس لیتی زندگی کو نہیں مہلت کہ میں خورشید دیتا تری آنکھوں کی بجھتی روشنی کو جو ...

    مزید پڑھیے

    منزل نہ کوئی موڑ نہ رستا دکھائی دے

    منزل نہ کوئی موڑ نہ رستا دکھائی دے عالم تمام دھند میں لپٹا دکھائی دے قاتل دکھائی دے نہ مسیحا دکھائی دے ہر شخص اک فریب تماشا دکھائی دے ویسے تو زندگی ہے اجالوں کا شہر بھی دیکھو تو مقبروں کا اندھیرا دکھائی دے جاؤں ادھر تو ایک سمندر ہے بے کراں دیکھو ادھر تو پیاس کا صحرا دکھائی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی کھڑکی جو کھلی رہتی ہے

    کوئی کھڑکی جو کھلی رہتی ہے سامنے شکل وہی رہتی ہے میرے ہونٹوں پہ ہنسی رہتی ہے آگ پھولوں میں دبی رہتی ہے جیسے ہر چیز پگھل جائے گی دھوپ یوں سر پہ کھڑی رہتی ہے اب تو خوابوں کے بھی آئینے میں وقت کی دھول جمی رہتی ہے میری تنہائی کے دروازے پر جانے کیوں بھیڑ لگی رہتی ہے کتنی قاتل ہے ...

    مزید پڑھیے

    جلتے ہوئے کچھ سوچ کے اک پل کو رکا تھا

    جلتے ہوئے کچھ سوچ کے اک پل کو رکا تھا ایسے بھی وہ یادوں کو مری چھوڑ رہا تھا آنکھوں میں تھکن گرد مہ و سال جبیں پر اک شخص کہیں دور دھندلکوں میں ملا تھا اب کیوں ہے اداسی کا سماں حد نظر تک کل رات خیالوں میں کوئی جاگ رہا تھا کیوں مصلحتاً لوگ اسے بھول گئے ہیں انسان کی عظمت کو صلیبوں ...

    مزید پڑھیے

تمام