چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا
چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے اگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا الم سے یاں تلک روئیں کہ آخر ہو گئیں رسوا ڈوبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خانداں اپنا رقیباں کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے ...