تجلی گر تری پست و بلند ان کو نہ دکھلاتی

تجلی گر تری پست و بلند ان کو نہ دکھلاتی
فلک یوں چرخ کیوں کھاتا زمیں کیوں فرش ہو جاتی


حنا تیرے کف پا کو نہ اس شوخی سے سہلاتی
یہ آنکھیں کیوں لہو روتیں انہوں کی نیند کیوں جاتی


اگر یہ سرد مہری تج کو آسائش نہ سکھلاتی
تو کیونکر آفتاب حسن کی گرمی میں نیند آتی


الٰہی درد غم کی سر زمیں کا حال کیا ہوتا
محبت گر ہماری چشم تر سے مینہ نہ برساتی