Mazhar Mirza Jaan-e-Janaan

مظہر مرزا جان جاناں

مظہر مرزا جان جاناں کی غزل

    چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا

    چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے اگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا الم سے یاں تلک روئیں کہ آخر ہو گئیں رسوا ڈوبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خانداں اپنا رقیباں کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے ...

    مزید پڑھیے

    تجلی گر تری پست و بلند ان کو نہ دکھلاتی

    تجلی گر تری پست و بلند ان کو نہ دکھلاتی فلک یوں چرخ کیوں کھاتا زمیں کیوں فرش ہو جاتی حنا تیرے کف پا کو نہ اس شوخی سے سہلاتی یہ آنکھیں کیوں لہو روتیں انہوں کی نیند کیوں جاتی اگر یہ سرد مہری تج کو آسائش نہ سکھلاتی تو کیونکر آفتاب حسن کی گرمی میں نیند آتی الٰہی درد غم کی سر زمیں کا ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے کی ہے توبہ اور دھومیں مچاتی ہے بہار

    ہم نے کی ہے توبہ اور دھومیں مچاتی ہے بہار ہائے بس چلتا نہیں کیا مفت جاتی ہے بہار لالۂ گل نے ہماری خاک پر ڈالا ہے شور کیا قیامت ہے موؤں کو بھی ستاتی ہے بہار شاخ گل ہلتی نہیں یہ بلبلوں کو باغ میں ہاتھ اپنے کے اشارے سے بلاتی ہے بہار ہم گرفتاروں کو اب کیا کام ہے گلشن سے لیک جی نکل ...

    مزید پڑھیے

    نہ تو ملنے کے اب قابل رہا ہے

    نہ تو ملنے کے اب قابل رہا ہے نہ مج کو وہ دماغ و دل رہا ہے یہ دل کب عشق کے قابل رہا ہے کہاں اس کو دماغ و دل رہا ہے خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے نہیں آتا اسے تکیہ پہ آرام یہ سر پاؤں سے تیرے ہل رہا ہے

    مزید پڑھیے

    اس گل کو بھیجنا ہے مجھے خط صبا کے ہاتھ

    اس گل کو بھیجنا ہے مجھے خط صبا کے ہاتھ اس واسطے لگا ہوں چمن کی ہوا کے ہاتھ برگ حنا اوپر لکھو احوال دل مرا شاید کہ جا لگے وہ کسی میرزا کے ہاتھ آزاد ہو رہا ہوں دو عالم کی قید سے مینا لگا ہے جب سے کہ کچھ بے نوا کے ہاتھ مرتا ہوں میرزائی گل دیکھ ہر سحر سورج کے ہاتھ چونری تو پنکھا صبا ...

    مزید پڑھیے