مسعودہ امام کی نظم

    ایک فقیر کی دعا

    میں مانگنے والا ہوں نکل جاتا ہوں کبھی مندر کبھی مسجد کی طرف گرجا اور گرودوارے کا چکر بھی لگا لیتا ہوں آج شہر کے بڑے میدان میں بڑی سجاوٹ ہے کسی تہوار کے جشن جیسا ماحول ہے ہجوم ہے بھیڑ ہے سامان ہی سامان ہے لوگ کہہ رہے ہیں بڑے منتری آنے والے ہیں چرچا یہ بھی ہے کہ بڑے دین دیالو ...

    مزید پڑھیے

    آدھی غزل

    پڑھ کے جغرافیہ سمجھ لیں گے ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے ووٹ لینے کو آئیں گے جھک کر جو نہیں جانتے وفا کیا ہے سر سے پا تک سپردگی کی ادا یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے مارچ اکتس کی لوٹ ہے یارو مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے دستخط کر کے بلینک چیک دے دے اور درویش کی دعا کیا ہے حال قابو میں ہے وہ ...

    مزید پڑھیے

    خوشبو کا سفر

    یہ خوشبو جسے محسوس کرتے ہی احساس کے تار بجنے لگتے ہیں فاصلے اور دوریاں سمٹ جاتی ہیں کوئی منظر کوئی چہرہ سامنے آ جاتا ہے ان خیالوں کی مسافت میں کوئی وقت لگا نہیں آ جاتا ہے کوئی کمرہ کوئی آنگن اور کوئی فرد بے جھجھک نہ کوئی خوف نہ ڈر اور نہ وہ خونی نظر اس خوشبو کے سفر میں نہ سرحدیں ...

    مزید پڑھیے

    پرواز

    تم نے کہا آسمان پر اک ذرا پتھر تو اٹھا کر دیکھو یارو یہ حوصلہ اور ہمت کی نصیحت اٹھا کر تو دیکھا تھا ہم نے بھی یارو بتاؤں تمہیں کیا ہوا یہ پتھر تو مجھ پر ہی آ گرا چوٹ لگی کہاں کہاں لگی کس طرح لگی میں تو لہولہان ہو گئی ہوں اور بے جان بھی ہو گئی ہوں اور اب اک میری بھی سنو ہر مشورے پر عمل ...

    مزید پڑھیے

    خزاں

    ہوا چلی نہ گل کھلے ہم دیکھتے ہی رہ گئے بہار میں خزاں ملی اور خزاں بھی جم کے رہ گئی شاخ سے جدا ہو کر پھول کی خوشبو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پتیاں بکھر گئیں

    مزید پڑھیے