Masooda Hayat

مسعودہ حیات

مسعودہ حیات کی غزل

    کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے

    کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے ہم متاع درد کو تنہا اٹھا کر لے گئے دھوپ کا صحرا نظر آتا ہے اب چاروں طرف آپ تو ہر پیڑ کا سایا اٹھا کر لے گئے اب وہی ذرے ہمارے حال پر ہیں خندہ زن آسماں تک جن کو ہم اونچا اٹھا کر لے گئے کیا غرض ہم کو وہاں اب کوئی بھی آباد ہو ہم تو اس بستی سے گھر ...

    مزید پڑھیے

    خوشبو سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

    خوشبو سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو شیشہ کہیں ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو احساس محبت سے کسی گوشۂ دل میں جب چوٹ ابھر آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو پر کیف ہوا میں جو کسی پیڑ کے نیچے آنچل مرا لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو چھونے سے کبھی باد صبا کے مرے تن میں اک برق سی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ...

    مزید پڑھیے

    گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلے

    گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلے جانے کس موڑ پہ کس ہاتھ میں خنجر نکلے معجزہ بن گئی کیا آج مری تشنہ لبی ایک قطرے کے تلے کتنے سمندر نکلے گر گیا ہو جو فصیلوں کو اٹھا کر خود ہی کیسے اب اپنے حصاروں سے وہ باہر نکلے رہبرو تم نے تو منزل کا پتا بھی نہ دیا تم سے بہتر تو مری راہ کے ...

    مزید پڑھیے

    کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے

    کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے ہم متاع درد کو تنہا اٹھا کر لے گئے دھوپ کا صحرا نظر آتا ہے اب چاروں طرف آپ تو ہر پیڑ کا سایا اٹھا کر لے گئے اس بھری دنیا میں اب تو کوئی بھی اپنا نہیں جیسے تم ہر درد کا رشتہ اٹھا کر لے گئے قطرے قطرے کو ترستے ہیں وہ اب اہل ہوس جو کبھی دھرتی سے ...

    مزید پڑھیے

    آج ہے دہر میں کیا اک نئی آفت کے سوا

    آج ہے دہر میں کیا اک نئی آفت کے سوا بغض و نفرت کے سوا رنج و مصیبت کے سوا اس طرح چھایا ہوا ہے نگہ‌ و دل پہ طلسم جیسے ہر چیز حقیقت ہو حقیقت کے سوا اپنے ہر جبر کو وہ مہر و وفا کہتے ہیں ہم بھی کچھ نام نہ دیں اس کو محبت کے سوا ہستیٔ عشق کو اب تک نہ کوئی جان سکا ورنہ ہے دہر میں کیا اور ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2