کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے
کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے ہم متاع درد کو تنہا اٹھا کر لے گئے دھوپ کا صحرا نظر آتا ہے اب چاروں طرف آپ تو ہر پیڑ کا سایا اٹھا کر لے گئے اب وہی ذرے ہمارے حال پر ہیں خندہ زن آسماں تک جن کو ہم اونچا اٹھا کر لے گئے کیا غرض ہم کو وہاں اب کوئی بھی آباد ہو ہم تو اس بستی سے گھر ...