لاکھ دیکھوں تجھے پھرتی نہیں نیت میری
لاکھ دیکھوں تجھے پھرتی نہیں نیت میری دل ہے قابو میں مرا اب نہ طبیعت میری آ کے پہلو میں مرے بیٹھ میں ہو جاؤں نثار ہے تمنا تو یہی ہے یہی حسرت میری دم آخر تو مرے پاس بھلا آ بے درد تیری فرقت میں کوئی دم میں ہے رخصت میری قبر پر میری اگر فاتحہ پڑھنے کے لئے وہ جو آ جائیں تو تھرا اٹھے ...