Mardan Safi

مردان صفی

مردان صفی کی غزل

    جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں

    جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں تمہیں تم کو ہم اے صنم دیکھتے ہیں یہ سب آپ ہی کی ہے گفت و شنید جو گوش و زبان و قلم دیکھتے ہیں اور آپی کا ہے سب یہ جلوہ میاں جو پیش نظر دم بدم دیکھتے ہیں جو ہیں محو دیدار ہم اس قدر یہ آپی کا لطف و کرم دیکھتے ہیں پیا جب سے جام شراب طہورا تبھی سے تو دم ...

    مزید پڑھیے

    جشن تجھ کو مرے نو شاہ مبارک ہوئے

    جشن تجھ کو مرے نو شاہ مبارک ہوئے بزم عشرت تری دل خواہ مبارک ہوئے شادماں باپ ہو اور بزم کے حاضر سب لوگ تجھ کو ثروت مرے جم جاہ مبارک ہوئے ہویں فرزند سعید اور نشاطیں پیہم فرخ ہر سال ہو ہر ماہ مبارک ہوئے ہم تو شادی کی مناتے ہیں ہمیشہ گھڑیاں دولہا دلہن تجھے ذی جاہ مبارک ہوئے دامن ...

    مزید پڑھیے

    کام اتنا میرے پیارے چرخ کہن سے نکلے

    کام اتنا میرے پیارے چرخ کہن سے نکلے تم سے نہ ہوں جدا میں جب جان تن سے نکلے تم حالت نزع میں بھی پاس میرے رہنا تا کلمۂ محمد میرے دہن سے نکلے یا رب نہ تا قیامت محتاج ہوں کسی کا جو ہو مری تمنا وہ پنج تن سے نکلے وحشت نہ قبر میں ہو تم سامنے ہی رہنا دست جنوں نہ میرا باہر کفن سے نکلے ہے ...

    مزید پڑھیے

    اے رشک قمر آگے ترے شمس و قمر کیا

    اے رشک قمر آگے ترے شمس و قمر کیا سو جاں سے فدا ہوں میں یہ ہے جان و جگر کیا اک آن میں دیتے ہو جلا عشق کے مارے ان باتوں سے تھی عیسیٔ مریم کو خبر کیا غیرت میں محبت میں مروت میں ترا مثل پایا نہیں ہم نے کہیں اور ہوگا بشر کیا دن بھر ہے تصور ہے مگر بات کو رونا کرتے ہیں میاں دیکھیے یہ دیدۂ ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں میں مری پھرتی ہے تصویر کسی کی

    آنکھوں میں مری پھرتی ہے تصویر کسی کی تصویر میں ہوں میری ہے تصویر کسی کی بت اپنے ہی کو کہتے ہیں سب اہل تصوف تصویر بتاں ہوتی ہے تصویر کسی کی ہے پیش و عقب دل کے مرے اور چپ و راست ہر لحظہ میاں پھرتی ہے تصویر کسی کی ہستی ہے کہیں اور نہ بستی ہے کسی کی دیکھا تو یہی ہستی ہے تصویر کسی ...

    مزید پڑھیے

    تو ہی ہے مری یہ بود و بقا تو اور نہیں میں اور نہیں

    تو ہی ہے مری یہ بود و بقا تو اور نہیں میں اور نہیں دیکھا جو اپنے کو تو ہی ملا تو اور نہیں میں اور نہیں تو ہی عدم کا تھا پردہ نشیں مرے دل کے مکاں کا ہے تو ہی مکیں مری ہستی ہے سب یہ ظہور ترا تو اور نہیں میں اور نہیں مرے ہوش ربا نے ہے فضل کیا مجھے راز خدائی اپنا دیا مری روح میں روح ملا ...

    مزید پڑھیے

    مری صورت میں مرا یار ہے اللہ اللہ

    مری صورت میں مرا یار ہے اللہ اللہ مرے دل میں مرا دل دار ہے اللہ اللہ کیا ہی تصویر بنی ہے یہ اہا ہا ہا ہا اس میں آپی وہ نمودار ہے اللہ اللہ شکل آدم کے سوا اور نہ بھایا نقشہ سارے عالم میں یہ اظہار ہے اللہ اللہ میرا جسم اور مری جاں ہے وہی جاں بالکل میں کہوں کیا کہ میں ہوں یار ہے اللہ ...

    مزید پڑھیے

    نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلب

    نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلب بجاں رکھتے ہیں اک ہمدم بدل اک یار سے مطلب نہ کام عالم سے ہے ہم کو نہ حورالعین جنت سے ہے اک مدہوش دانا تر بدل‌ ہوشیار سے مطلب نہ ملت ہے نہ مذہب ہے نہ ہے مطلب کوئی اپنا وصال یار مذہب ہے اور ہے دیدار سے مطلب تصور ہے نہ کام اپنا سوا مرشد کی ...

    مزید پڑھیے

    دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا

    دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا زیر فانوس بدن شمع ہے جوبن ان کا دید ان کی ہے وصال ان کا تصور ان کا جان ان کی ہے جگر ان کا ہے تن من ان کا ہیں وہ کاشانۂ دل میں کبھی آنکھوں میں کبھی خانہ تن ہے مرا گھر بھی اور آنگن ان کا ہے تصور جو انہیں کا تو وہ ہیں پیش نگاہ ہو خیال ان کے سوا گر تو ...

    مزید پڑھیے

    میرے مرشد ہو پیشوا ہو تم

    میرے مرشد ہو پیشوا ہو تم میری صورت میں مدعا ہو تم ڈھونڈھے پاتا نہیں تمہیں ہر شخص پر سبھوں میں خلا ملا ہو تم معنیٔ مصطفیٰ تمہیں تو ہو کاشف سر لا مکاں ہو تم جاں بھی ہو دل ہو جنبش اعضا بود ہو کل مری بقا ہو تم جب تمہیں تم ہو ہر ادا میری پھر بھلا مجھ سے کب جدا ہو تم ہر جگہ جب تمہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2